En

پاکستان کا آم کی برآمدات کو فروغ دینے کا عزم

By Staff Reporter | China Economic Net Aug 26, 2025

اسلام آباد(چائنہ اکنامک نیٹ)پاکستان آم برآمد کرنے والا دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے،جو 200 سے زائد قسم کے آم پیدا کرتا ہے، لیکن اسکے باوجود پاکستان کی آم کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا ۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان سالانہ تقریباً 12 لاکھ ٹن آم پیدا کرتا ہے، لیکن اس کا صرف 10 فیصد ہی برآمد کیا جاتا ہے۔ زیادہ پیداواری لاگت اور معیار سے متعلق مستقل خدشات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
 
پیداوار سے پیکنگ تک: تبدیلی کی ضرورت
پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ بورڈ کے مینیجر خاور ندیم کا کہنا ہے کہ روایتی طریقوں کے باعث باغ سے مارکیٹ تک آموں کا 30 فیصد تک ضائع ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق، جدید زرعی طریقے اپنا کر پیداوار میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا آسٹریلیا اور مصر جیسے ممالک فی ایکڑ 600 درخت اگا رہے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ تعداد صرف 40 سے 60 ہے۔ اگر ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ، بہتر جڑ دار اقسام اور گرین ہاؤسز متعارف کروائے جائیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ اگر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ باغات قائم کیے جائیں تو پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
 
 انہوں نےمزید کہا کہ اس کے لیے ہمیں جینیاتی انجینئرنگ کو زیادہ اپنانے کی ضرورت ہے اور مکمل پیداواری سہولیات جیسے کہ گرین ہاؤسز قائم کرنا ہوں گے تاکہ نرسریوں کے گرتے ہوئے معیار جو جراثیم، بیماریوں اور کیڑوں کے باعث متاثر ہو رہا ہے کا ازالہ کیا جا سکے۔ ساتھ ہی، یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے چھوٹے قد والی جڑ دار اقسام متعارف کروائی جائیں جو پاکستان کی زمین کے حالات سے بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکیں۔
 
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد زبیر اقبال کا کہنا ہے کہ آم کی برآمدات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ زیادہ پیداواری لاگت ہے،بجلی، گیس، زمین اور رجسٹریشن کی فیسیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس صنعت کو بہت کرنا چاہتے ہیں توحکومت کو چاہیئے کہ لاگت کم کرے اور رجسٹریشن کا عمل آسان بنائے۔ 
ڈاکٹر اقبال نے برآمدی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری سطح پر سخت سٹینڈرڈز مقرر کرنے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آم سیکٹر ابھی تک زیادہ تر صرف کچے پھل تک محدود ہے، جس کے باعث منافع بخش ویلیو ایڈڈ مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔ جوس بنانے کی یونٹس، خشک کرنے کے پلانٹس، پیکجنگ سہولیات اور صنعتی تربیت نہایت ضروری ہیں۔ ایک مکمل سپلائی چین ہونی چاہیے جو آم پیدا کرنے والے علاقوں کو برآمدی بندرگاہوں سے جوڑ سکے۔
 
ڈاکٹر اقبال نے کہا پاکستان کا آم سیکٹر اب بھی زیادہ تر صرف کچے پھل پر مرکوز ہے، جس کے باعث منافع بخش ویلیو ایڈڈ مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ایک مؤثر سپلائی چین ناگزیر ہے۔ جوسنگ یونٹس، خشک کرنے کے پلانٹس، پیکجنگ سہولیات اور انڈسٹری کی تربیت نہ صرف معیار کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ منافع میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ آم پیدا کرنے والے علاقوں سے لے کر برآمدی بندرگاہوں تک مکمل سپلائی چین کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔

 
ندیم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور گودا نکالنے، پانی نکالنے، اور فریز ڈرائینگ کی سہولیات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ممالک اپنی پیداوار کا 70 فیصد تک گودے میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ "اگر ہم ویلیو چین میں ترقی کریں تو برآمدات کو سہولت سے تین گنا بڑھایا جا سکتا ہے ۔

 

 
چین کے ساتھ  اشتراک
مئی 2025 میں آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PFVA) نے 1.25 لاکھ ٹن آم برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا، جس کی مالیت تقریباً 10 کروڑ ڈالر رکھی گئی ۔
چین، جو دنیا کا سب سے بڑا پھل استعمال کرنے والا ملک ہے، پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈیوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ 2023 میں پاکستان کی چین کو آم کی برآمدات 1,15,000 ٹن سے تجاوز کر گئیں جن کی تجارتی مالیت 80 ملین ڈالر رہی۔ پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے چائنہ اکنامک نیٹ کو بتایا کہ ملک آئندہ پانچ سالوں کے اندر چین کو آم کی برآمدات دوگنا کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
 
دو طرفہ تعاون کے نتائج پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ کولڈ چین لاجسٹکس نے ترسیلی اوقات کو 50 فیصد کم کر دیا ہے اور خراب ہونے کی شرح کو بھی کم کیا ہے۔ چینی ٹیکنالوجی برآمدات کے تحفظ اور پروسیسنگ میں مدد دے رہی ہے جس سے ویلیو ایڈڈ آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چین فروٹ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے نائب صدر ژانگ چنگفینگ کے مطابق، JD.com اور Pinduoduo جیسے ای-کامرس پلیٹ فارمز پر روزانہ کی بلند ترین فروخت 50 ٹن سے تجاوز کر چکی ہے اور صارفین کی اطمینان کی شرح 98 فیصد سے زیادہ ہے۔

  
 
 ڈاکٹر اقبال چینی آلات میں مزید صلاحیت  کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے کمپیکٹ یونٹس کی ضرورت ہے جن میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش، بوائلرز اور ویکیوم سیلڈ سسٹمز ہوں تاکہ صفائی اور شیلف لائف کو برقرار رکھا جا سکے۔ فصل کی کٹائی کے لیے مشینری، چاہے درآمد شدہ ہو یا مقامی طور پر تیار کی گئی، کارکردگی میں اضافہ کر سکتی ہے۔ پاکستان میں ابھی تک بین الاقوامی معیار کی پیکجنگ سہولیات موجود نہیں ہیں۔

پنجاب میں واقع ال رفیق انٹرپرائزز کے صدر محمد ریاض نے تجویز دی کہ پاک چین تجارتی اداروں کے درمیان ورچوئل میٹنگز، چینی وفود کے دورے، اور آم سے بنی مصنوعات کی عالمی سطح پر نمائش بڑھائی جائے۔
ادھر شن یانگ نرمل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عابد علی نے نے کیڑوں کے انتظام، درست طریقے سے کیڑے مار ادویات کے استعمال، اور ماحول دوست پودوں کے تحفظ پر مشترکہ تحقیق کی تجویز دی ہے تاکہ ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
 

 چائنہ فروٹ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے نائب صدر ژانگ چنگفینگ کے مطابق تین نکاتی حکمت عملی سے پاکستان کی آم برآمدات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔۔ چینی سرمایہ کاری کو آم انڈسٹریل پارکس کی طرف راغب کرنا تاکہ نئی، ٹرانسپورٹ کے لیے آسان اقسام جیسے "منی چونسا" کو مشترکہ طور پر تیار کیا جا سکے؛ پاکستانی آم کو چین کی "بیلٹ اینڈ روڈ پریمیم زرعی مصنوعات" کی فہرست میں شامل کر کے مضبوط برانڈ روابط قائم کرنا، جو ہینان کے آم کے سیزن کی تکمیل کرے اور سال بھر فراہمی کو یقینی بنائے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles