En

پاکستان میں جنگلات کی کٹائی میں اضافہ سیلاب کا سبب بن رہا ہے، ماہرین

By Staff Reporter | Gwadar Pro Aug 22, 2025

اسلام آباد (گوادر پرو) حالیہ مون سون  بارشوں اور سیلاب کے  نتیجےمیں خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،اس نے ایک بار پھر پاکستان کی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف شدید کمزوری کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین  نےخبردار کیا ہےکہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے بارشوں اور اچانک سیلابوں کے تباہ کن اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
 
مالاکنڈ اور ملحقہ علاقوں میں بادل پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب گھروں، پلوں اور بجلی کے نظام کو بہا کر لے  گئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہر سال جنگلات  میں کمی سے نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی کسان شازیہ بی بی نے کہا وہ درخت جو کبھی پہاڑوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے، اب ختم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ہر سال سیلاب کی شدت بڑھ رہی ہے۔ 

سرکاری اعداد و شمار بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 1992 میں 3.78 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر 2025 میں صرف 3.09 ملین ہیکٹر رہ گیا ہے، جو کل زمین کا صرف پانچ فیصد ہے، اور یہ جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔ آزاد کشمیر میں جنگلات کا رقبہ 2000 میں 46 فیصد سے گھٹ کر 2020 میں 39 فیصد رہ گیا ہے، جس کا تعلق بڑھتے ہوئے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہے۔
 سینئر ماحولیاتی ماہر اقتصادیات ڈاکٹر پرویزعامر نے کہاکہ جنگلات کی کٹائی پاکستان کی سیلابوں کے خلاف دفاع کی پہلی لائن کو تباہ کر رہی ہے۔ اس کے انسانی جانوں اور اقتصادی نقصان کی قیمت کسی بھی قلیل مدتی فائدے سے کہیں زیادہ ہے جوجنگلات کی کٹائی یا زمین کے استعمال سے حاصل ہوتی ہے۔ 

 اس کے برعکس، چین نے شجرکاری اور سیلاب مینجمنٹ میں عالمی رہنمائی حاصل کی ہے۔ 2012 سے اب تک اس نے 66 ملین ہیکٹر سے زائد درخت لگائے ہیں، جس سے جنگلات کا رقبہ 25 فیصد سے اوپر پہنچ گیا ہے اور دنیا کے نئے جنگلات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ چین میں ہے۔ ماحولیاتی ماہر پروفیسر ما جن نے اس کوشش کو "اسٹریٹجک، غذائی تحفظ، پانی کی سلامتی، اور آفات کے خلاف مزاحمت کو مضبوط کرنے والا منصوبہ قرار دیا ہے۔
 
چین کے 1998 کے سیلابوں کے ردعمل نے پاکستان کے لیے ایک ماڈل فراہم کیا ہے۔ اس تباہی کے بعد بیجنگ نے وسیع پیمانے پر دوبارہ جنگلات لگانے، آبی ذخائر کے انتظام، جنگلات کی بحالی، اور "اسفنجی شہروں"  کے قیام میں سرمایہ کاری کی، جو بارش کے پانی کو جذب کر کے بہاؤ کو کم کرتے ہیں۔ جس سے سیلاب کی شدت میں 30 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔

حال ہی میں چین کے جنوب مغربی علاقے زیزانگ کے لاہسا میں چار سال میں تقریباً 72 ہزار ہیکٹر شجرکاری مکمل کی گئی اور 120 ملین سے زائد پودے لگائے گئے، جس سے مٹی کے کٹاؤ میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

  ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی حکمت عملی صرف درخت لگانے تک محدود نہیں تھی۔ اس میں ندی نالوں کے کنارے زوننگ، سیلاب کے خطرے والے علاقوں میں تعمیرات پر پابندی، پہاڑی علاقوں میں سیڑھی دار کھیت اور چیک ڈیمز بنانا شامل تھا تاکہ پانی کا بہاؤ سست ہو، اور ماحولیاتی زرعی طریقے شامل تھے جو مٹی کی حفاظت کرتے ہیں۔ جدید ابتدائی وارننگ سسٹمز اور کمیونٹی کی سطح پر آفات کی مشقیں بھی مزاحمت کو بڑھاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان بھی ایسی ہی تدابیر اپنا سکتا ہے، جس میں دوبارہ شجرکاری کے ساتھ ساتھ بہتر ندی نالوں کا انتظام، سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیرات کی روک تھام کے قوانین، اور شہری پانی جذب کرنے کے انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہے۔ دیگر ترجیحات میں غیرقانونی شہری ترقی کی وجہ سے خراب شدہ آبی ذخائر اور جھیلوں کی بحالی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، اور بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی میں سرمایہ کاری شامل ہے۔
 پالیسی کے ماہرین حکومت کی اصلاحات کی بھی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ وہ درختوں کی کٹائی پر سخت پابندیاں، غیر قانونی لکڑی کی کٹائی کی روک تھام، موسمیاتی فنڈز کے شفاف استعمال، اور جنگلات پر منحصر کمیونٹیز کو متبادل روزگار فراہم کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔

 گراس روٹ سطح پر، کمیونٹی کی بنیاد پر اقدامات امید افزا ہیں۔ آزاد کشمیر میں ایک اسکول ٹیچر، عثمان، نے خشک ہو چکے آبی ذخائر اور چشموں کو زندہ کرنے کے لیے بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کا آغاز کیا ہے، جو اب سیکڑوں رضاکاروں کی حمایت حاصل کر چکا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ مقامی فلاحی تنظیموں کو بااختیار بنانے سے تحفظ کی رفتار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
 اگر ہماری ادارے اس طوفان کا سامنا کرنا چاہتے ہیں تو مقامی تنظیموں کے ساتھ ہنگامی بنیاد پر کام کر کے دنوں میں جنگلات دوبارہ لگائے جا سکتے ہیں،" انہوں نے کہا۔ "فنڈز کو عوامی طور پر شائع کیا جانا چاہیے، اور واضح اہداف طے کیے جائیں کہ کہاں اور کتنے درخت لگائے جائیں۔ تب ہی ہم اس تباہی کو روک سکتے ہیں۔ ماہرین  نے خبردار کیا ہے کہ اگر شجرکاری، آبی ذخائر کے انتظام، اور ماحولیاتی تحفظ میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان آنے والے سالوں میں بار بار سیلاب، ہیٹ ویوز اور خشک سالی کا شکار رہے گا۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles