گوادر میں پانی کا بحران ختم، چین کے تعاون سے 1.2 ایم جی ڈی واٹر پلانٹ فعال
اسلام آباد (گوادر پرو) پانی کے شدید بحران سے دوچار گوادر کے شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری، چین کے مالی تعاون سے تعمیر شدہ 1.2 ملین گیلن یومیہ (ایم جی ڈی) صلاحیت کا ڈیسالینیشن پلانٹ مکمل کر لیا گیا ہے، جو رواں ہفتے گوادر کے رہائشیوں کو 70 سے 80 لاکھ گیلن پینے کا صاف پانی فراہم کرے گا۔
بارشوں کی کمی کے باعث گوادر کے پانی کے اہم ذخائر، جن میں انکرا ڈیم، سواد ڈیم، اور شادی کور ڈیم شامل ہیں، اس وقت خشک ہو چکے ہیں۔ بلوچستان حکومت نے 8 جولائی کو چین کے مالی تعاون سے مکمل ہونے والے 1.2 ایم جی ڈی واٹر پلانٹ سے پانی خریدنے کے فیصلے کی اضابطہ منظوری دے دی ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے گوادر پرو کو بتایا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ، سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ عمران غچکی، ڈی جی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سیف اللہ خیتران اور ایکسئین مومن بلوچ نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ 1.2 ایم جی ڈی سمندری پانی کو میٹھا بنانے والا پلانٹ چین کی جانب سے دو ارب روپے کے گرانٹ سے مکمل کیا گیا ہے، جس میں گوادر پورٹ اتھارٹی، نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) اور چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی (CHEC) نے تکنیکی تعاون فراہم کیا ۔ اس پلانٹ کے ساتھ ساتھ تقریباً ایک کلومیٹر طویل واٹر سپلائی لائن بھی بچھائی گئی ہے جو پلانٹ کو گوادر شہر کے مرکزی واٹر سپلائی نیٹ ورک سے جوڑتی ہے۔
ابتدائی طور پر 0.5 ایم جی ڈی واٹر ڈیسالینیشن پلانٹ کا منصوبہ پاکستان اور چین کی حکومتوں کی جانب سے فزیبلٹی اور سروے کے بعد شروع کیا گیا تھا، تاہم پانی کی موجودہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے 5 جولائی 2021 کو حکومت نے 1.2 ایم جی ڈی پلانٹ کی منظوری دی۔
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شادی کور اور سواد ڈیم سے 158 کلومیٹر طویل پانی کی پائپ لائن بھی مکمل کر لی ہے۔ اس کے علاوہ جی ڈی اے نے شہر کے ہر گھر تک پینے کا پانی پہنچانے کے لیے نئی 141 کلومیٹر طویل تقسیم کی پائپ لائن بھی نصب کر دی گئی ہے۔
جی ڈی اے کے ایک عہدیدار نے گوادر پرو کو بتایا کہ اب گوادر شہر کے تمام رہائشی پینے کے پانی کی فراہمی سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر کی بستیوں جیسے فقیر کالونی اور دُھور، جنہیں پہلے ہی واٹر سپلائی لائنوں سے جوڑا جا چکا ہے، انہیں رواں ہفتے کے دوران قابلِ نوش پانی کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔


