En

چین پاکستان ہیلتھ کوریڈور میں جگر کی پیوند کاری

By Staff Reporter | Gwadar Pro May 30, 2021

بیجنگ  بیجنگ فرینڈشپ ہسپتال (بی ایف ایچ) کے لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کے ڈائریکٹر ، میڈیسن کے چینی پروفیسر ڈاکٹر  ژو ژیجن      اور ان   کی ٹیم نے دو سال  پاکستانی مریضوں کو مفت  لیور ٹرانسپلانٹ  کی سہولیات فراہم کیں۔   بی ایف ایچ کے لیور ٹرانسپلانٹیشن سنٹر کے زیرانتظام چین پاکستان طبی تعاون منصوبے کا آغاز 2015 میں کیا گیا تھا۔ گذشتہ چند سالوں میں پروفیسر ڈاکٹرژو ژیجن   کی سربراہی میں ٹیم نے  مریضوں کی   لیور ٹرانسپلانٹ  سرجری  اور   مقامی طبی پیشہ ور افراد کو  لیور ٹرانسپلانٹ  کی ٹرینگ کے لئے متعدد بار پاکستان کا سفر کیا ۔ چین پاکستان سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر چائنا اکنامک نیٹ  کو انٹرویو دیتے ہوئے    ڈاکٹر  ژو ژیجن   اور ان   کی ٹیم نے بتایا  کہ 2003 میں ایک دن تیانجن نمبر 1 سنٹرل اسپتال میں کام کر رہے تھے کہ  ڈاکٹر ژو ژیجن نے ایک پاکستانی مریض جس کا جگر  کام کرنا چھوڑ چکا تھا اور  وہ آخری سٹیج پر تھا  ۔ڈاکٹرژو ژیجن نے بتایا کہ مریض کو پوسٹ ہیپاٹائٹس سی سروسس ، ٹرمینل  لیور فیلیر  اور بڑے پیمانے پر  پیٹ میں  پانی تھا    جس کا علاج دوائی سے ممکن  نہیں ہوسکتا تھا اور وہ  موت کے قریب تھا ہم نے اس کا لیور ٹرانسپلانٹ  کیا  ، پھر خوش قسمتی سرجری کے بعد    مریض  اچھی طرح سے  صحت یاب  ہو گیا  ۔کامیاب  سرجری کے بعد چینی ڈاکٹروں کی  لیور ٹرانسپلانٹ  کی خبر پاکستانی  ملٹری  میں  جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی اور ہیپاٹائٹس بی سمیت جگر کی بیماری کے زیادہ  مریض  ہیں ، لیکن پاکستان میں ہر سال 200 سے زیادہ     لیور ٹرانسپلانٹ سرجری  نہیں کی جاتیں ۔ لہذا  پاکستانی حکومت کو فوری طور پر مقامی  سطح پر لیور ٹرانسپلانٹ سرجری کی صلاحیتں پیدا کرنے  کی ضرورت ہے۔ متعدد بار ر بات چیت  اور رابطے کے بعد  ڈاکٹرژو ژیجن   جنہوں نے  پہلی بار  بیجنگ میں فرینڈشپ ہسپتال   میں لیور ٹرانسپلانٹ سرجری کی  اور وہ پاکستان میں کئی بار جگر کی بیماریوں کی کانفرنسوں میں شریک تھے ان کو  2015 میں سفارتخانہ پاکستان کی جانب سے  سے باضابطہ دعوت نامہ ملا۔ انہوں نے بتایا  کہ پاکستانی  سفیر  ہمارے اسپتال آیا اور مجھے پاکستانی اسپتالوں میں  پاکستانی ڈاکٹروں کی تربیت اور پاکستانی مریضوں پر براہ راست آپریٹنگ سرجری کے لئے تعاون کرنے کی دعوت دی۔   لیور ٹرانسپلانٹ سرجری خاص ہے کیونکہ گردوں کی پیوند کاری کے برعکس   اس کا  کوئی متبادل علاج نہیں ہے ، جسے ڈائلیسس یا دل کی پیوند کاری کا دوسرا علاج  ممکن ہے   جسے مصنوعی دل  لگایا جاسکتا ہے۔ اگر جگر ختم ہو جاے تو مریض کی جان صرف لیور ٹرانسپلانٹ سے ہی بچائی جا سکتی ہے  ۔ انہوں نے کہا  جب میں پاکستان میں تھا تو   میں نے بہت سے  جگر کے  مریضوں کو  شدید پیٹ پانی  ، کھجلی یرقان اور جگر کی خرابی کے  ساتھ  آخری  سٹیج پر دیکھا  جن کا علاج نہیں ہورہا تھا  اور یہ میرے لئے بہت افسوسناک تھا کیونکہ  یہ لیور  ٹرانسپلانٹ  کے ذریعے  قابل علاج تھے ۔طویل بات چیت اور  تعاون  کے بعد  آخر کار انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کے اسپتالوں میں ہارڈ ویئر کی سہولیات فراہم کریں  اور چینی ڈاکٹر آپریشن کرنے کے لئے پاکستان جاتے ہیں۔ اس منصوبے کو سرکاری طور پر 2018 میں نافذ کیا گیا تھا۔ تب سے ڈاکٹر ژو اور اس کی ٹیم نے مقامی مریضوں کا  آپریشن کرنے کے لئے پاکستان کا باقاعدہ دورہ کیا۔ ڈاکٹر ژو نے کہا پہلے تو  ہمارے کنبہ کے افراد ، ساتھیوں اور دوستوں نے سوچا کہ اس میں  ہمیں  بہت زیادہ کوشش  کرنی ہوگی۔ ہم ایک مہینے میں  4 دن  جاتے ۔ چھ گھنٹے کی پرواز کے علاوہ  ہم پاکستان   پہنچنے کے  بعد  ایک دن میں 10 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے تھے۔   اس منصوبے کو ان کے اہل خانہ اور اسپتالوں کی حمایت حاصل تھی ۔ اب تک ڈاکٹر ژو اور ان کی ٹیم نے 40 سے زیادہ   پاکستانی مریضوں کے   جگر کی پیوند کاری کی ہے۔ آپریشن کے بعد تمام مریض   صحتیا ب  ہو گئے  ، اور ان میں سے بہت سے افراد ا پنے معمولات اور کاموں پر  واپس آگئے ہیں۔ ڈاکٹر ژواور ان کی ٹیم نے پاکستانی مریضوں کے لئے لیور ٹرانسپلانٹ کے علاوہ  پاکستان کے ڈاکٹروں  کی تربیت اور طبی دیکھ بھال کی سطح کو بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔جب سے یہ منصوبہ شروع ہو ہے تب سے ہر بار جب وہ پاکستان میں لیور ٹرانسپلانٹ کرتے ہیں  تو وہ مقامی ڈاکٹروں کو مشاہدہ کرنے اور مطالعہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں  اس کے علاوہ وہ پاکستانی ڈاکٹروں  کو  ماڈلز پر لیکچرز ، میٹنگز اور ٹیوٹر پریکٹس بھی دیتے ہیں۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles