En

چینی سرمایہ کاروں کی دلچسپی ، بھینس  کے دودھ سے  پاکستان کے زرمباد لہ میں اضا فہ متوقع

By Staff Reporter | Gwadar Pro Apr 21, 2021

  بیجنگ:پاکستان بھینسوں کی اقسام ، تحقیق ، اور  ان کے دودھ کی  پیداوار کے حوالے سے مالا مال ہے۔ رائل گروپ کے صدر چن یائی نے چین پاکستان ایگریکلچر اینڈانڈسٹریل کوآپریشن  انفارمیشن پلیٹ فارم (سی پی اے آئی سی)  کے مکمل ہونے کے  بعد  ایک ہفتہ  کا  پاکستان کا دورہ کیا اور کہا کہ اس کے فوائد کو بروئے کار لانے اور اس میدان میں پاک چین تعاون  کے فروغ کے لئے ہم پاکستان میں ڈیری پروسیسنگ پلانٹ لگانے کی امید کرتے ہیں۔  پاکستان کے بھینس کے دودھ میں کیا خاص بات ہے؟ کیا پاکستان  کی  بھینس تقریبا 50 سال بعد دوبارہ چین میں داخل ہوسکے گی ؟ چین اور پاکستان بھینسوں کی صنعت میں اپنے اضافی فوائد کو کس طرح پیدا کرسکیں گے تاکہ پیداواری صلاحیت کو بڑھاسکیں؟ جیسے  سوالات پر    پاکستان میں چینی سفارت خانے کے زرعی کمشنر گو وین لینگ نے   بتایا کہ پاکستان دنیا میں چوتھا سب سے بڑا دودھ پیداکرنے والا ملک ہے ، جہاں بھینسوں کا دودھ 60 فیصد ہے۔ پاکستان میں 41 ملین بھینسیں ہیں اور دودھ کی پیداوار چین  سے زیادہ ہے۔   حکومت  پاکستان کی  اکنامک سروے رپورٹ کے مطابق  مالی سال   2019 2020   میں پاکستان میں بھینسوں کے دودھ کی پیداوار 256000 ٹن تک پہنچی۔ پاکستان کی بھینس کا دودھ ذائقہ دار اور چکناہٹ سے بھرپور ہے۔ گوانگشی بھینس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سرکاری ویب سائٹ سے معلوم ہوا کہ بھینس کے دودھ میں خشک مادے کا مواد عام دودھ کی نسبت  18.4 فیصدزیادہ  ہے۔  بھینسوں کے دودھ چکناہٹ  اور پروٹین بالترتیب 7.9 فیصد اور 4.5 فیصد تک  پائی جاتی ہے ، جو چین میں اوسط  3.82  اور 3.25 فی صد ہے  یہ چین  میں تازہ دودھ (چائنا ڈیری ایسوسی ایشن سے) سے زیادہ ہے۔ 1974 میں  پاکستان نے 50 نیلی لافائٹ بھینسیں چین کو تحفے میں دیں۔ بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ فراہم کردہ اعدادوشمار  کے مطابق  نیزا بھینسوں کی پہلی نسل  کے اوسط دودھ کی روزانہ  کی پیداوار 13.4 کلوگرام  تھی  ، جو پاکستان کی بھینسوں کو چینی مقامی  بھینسوں کے کراس   کراکے حاصل کی گئی ۔ تاہم ، و قت گزرنے کے ساتھ ، دودھ کی پیداوار میں سال بہ سال کمی واقع ہوتی  گئی ۔ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا چینی کاروباری اداروں کے لئے اعلی معیار کے بھینس کے  دودھ کی پیداوار کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔  چینی تاجروں کی توجہ ہے کہ پاکستان کسی طرح  زندہ بھینس برآمد کر سکے ۔ چین پاکستان زرعی اور صنعتی تعاون انفارمیشن پلیٹ فارم (سی پی اے آئی سی) کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں وزارت  قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اینیمل کمشنر ڈاکٹر خورشید احمد نے بتایا کہ ابھی تک  پاکستان میں زندہ جانوروں کی برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس حالت میں ، چینی انٹرپرائز   پاکستان کی بھینس کا سیمن   درآمد کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالنا چاہیے ۔ تاہم ، تکنیکی محاذ  پر پاکستان کو متعدد خلفشار کا سامنا ہے۔ چینی وفد کا استقبال کرنے والے پاکستانی اندرونی ذرائع نے بتایا کہ محدود مقامی طلب کی وجہ سے  پاکستان میں بھینس کی  افزائش نسل  کم ہو رہی  ہے اور ابھی تک تجارتی برآمد کا ادراک نہیں ہوسکا ہے۔ پاکستان امید کرتا ہے کہ چینی بھینسوں  کی  جینیاتی افزئش نسل کی ٹیکنالوجی متعارف کروائے گا  اور بھینسوں کی افزائش اور اعلی معیار کے  سپرم اور امبریو کی برآمد میں تعاون کو تقویت ملے گی۔  چن نے کہا   اگر  قانون اجازت دیتا ہے تو ہم چین کے تجربے اور  جینیاتی  ٹیکنالوجی  شیئر کرنے  لیے تیار ہیں ۔ مستقبل میں جانور  وں کی تیز رفتار نشوونما سے دودھ تیار کرنے والوں پر مزید دبا ڈالا جائے گا ، لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم نئی  ٹیکنالوجی کے ذریعہ بھینسوں کی اقسام کو بہتر بنائیں اور پوری دنیا میں   پالتو جانوروں کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ چن نے متعارف کرایا کہ پچھلے 30 سالوں میں  پالتو جانوروں کی صنعت میں چین کے عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ   جینیاتی  اور ایمبریوٹیکنالوجی کا متناسب  استعمال زرعی آبادی میں تیزی سے  اضافے اور معیار میں بہتری کے لئے موزوں ہے۔  اس سلسلے میں چین کے تجربات اور ٹیکنالوجیز ، معیار اور مقدار کے لحاظ سے پاکستان کی مویشی پال  بحالی اور ترقی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ تکنیکی تعاون کے علاوہ ، "ہم اپنی مقامی  مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے اور چینی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں برآمد کے حصول کے لئے پاکستان میں ڈیری پروڈکٹ پروسیسنگ اور صنعتی تحقیق  کیلئے تیار ہیں۔چن نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف پاکستان کے لئے زرمبادلہ آئے گا   بلکہ ایشیا میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں چین اور پاکستان کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔پروسیسنگ پلانٹوں میں سرمایہ کاری پاکستان کی  مقامی  طلب کو پورا کرنے کے لئے سب سے پہلے اور اہم ہے۔  حکومت پاکستان کی  اکنامک سروے کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان دودھ تیار کرنے والا ایک بڑا ملک ہے ، لیکن اس کے باوجود دودھ اور دیگر دودھ کی مصنوعات درآمد کرنے میں ہر سال 20 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles