گوادر پورٹ ایک اہم تجارتی مرکز بننے کی جانب گامزن ہے ،سی ای این
بیجنگ() پاکستان کے جنوب مغرب میں گوادر پورٹ ایک اہم لاجسٹک ، تجارت ، ابھرتی ہوئی صنعتوں ، سائنس اور ٹیکنالوجی ، ثقافت اور تعلیم کا مرکز بننے کی جانب گامزن ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت گوادر پورٹ کی ترقی نہ صرف بلوچستان بلکہ مجموعی طور پر پاکستان کی معاشی ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔ رپورٹ میں چینی پروفیسر چنگ شی چونگ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گوادر بندرگاہ افغانستان ، تاجکستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے لئے قریب ترین سمندری بندرگاہ، علاقائی لاجسٹکس اور شپنگ سنٹربن جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے گوادر کا دورہ کیا اور گوادر پورٹ فری زون ایریا کو افغانستان سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ گوادر سٹی کے ماسٹر پلان اور گوادر پورٹ کی فعالیت بارے میں پیشرفت پر بریفنگ پر صدر مملکت نے کہا کہ گوادر پورٹ پر ٹریفک کا تیزی سے بہاو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کر یں اور اتفاق رائے سے متعلقہشراکتداروںسے مشاورت کے ذریعے اس سلسلے میں رکاوٹوں کو دور کر یں ۔ انہوں نے گوادر میں جدید ترین چائنا بزنس سینٹر (سی بی سی) تعمیر کرنے پر چینی حکومت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی کے دورے نے پوری طرح سے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستانی قیادت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے چمکتے ہوئے موتی گوادر پورٹ کی تعمیر کو مسلسل فروغ دینے کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ گوادر پورٹ میں متعلقہ منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لانے کے لئے چین اور پاکستان کے متعلقہ محکموں نے 30 نومبر 2020 کو ویڈیو لنک کے ذریعے مشترکہ ورکنگ گروپ(جے ڈبلیو جی)کا پانچواں اجلاس منعقد کیا ، جس میں دونوں فریقوں نے گوادر پورٹ سے متعلق منصوبوں، ، سڑک اور ہوائی ڈھانچہ ، پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات کی فراہمی پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ 2020 کے اوائل سے چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر کورونا وائر س کے اثرات پر قابو پانے اور گوادر سیریز منصوبوں کی مستحکم اور پائیدار تعمیر و عمل کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ کوشش کی ہے۔ متعلقہ چینی کاروباری اداروں نے وبائی امراض کے خلاف مشترکہ کاروائیوں کے شعبوں میں بے تحاشا کام کیا ، اور گوادر میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ گوادر پورٹ 2020 میں سی پیک کی ترقی کے دوران وبائی بیماریوں سے بچاو اور منصوبے کی تعمیر میں کامیابی کے ساتھ توازن کی ایک روشن مثال بن گیا ہے۔ گوادر پورٹ میں اب پانچ کنٹینر کرینیں شامل کردی گئیں۔ ایک لاکھ مربع میٹر کا اسٹیک یارڈ تعمیر کیا گیا ہے۔ سمندری پانی کو صاف کرنے والے آلات اور کنٹینر اسکیننگ آلات شامل کردیئے گئے ہیں ، اور پورٹ فنکشن کو پوری طرح سے بحال کردیا گیا ہے۔اس وقت ٹرمینل ایک ہی وقت میں دو 50000 DWT فری فریٹرز کو ایڈجسٹ کرسکتا ہے اور پوری آپریشنل صلاحیت کے ساتھ بلک کارگو ، کنٹینر اور رول آن رول آف کارگو کو سنبھال سکتا ہے۔


