En

رشکئی خصوصی اقتصاد ی زون میں 11 کاروباری ادارے صنعتی یونٹ قائم کر رہے ہیں

By Staff Reporter | Gwadar Pro Apr 20, 2022

پشاور  (گوادر پرو)   رشکئی خصوصی   اقتصاد ی زون کی تعمیر 28 مئی 2021 کوکمرشل  طور پر شروع کی گئی تھی اور  تیزی سے جاری ہے۔ صنعتی یونٹوں کی تعمیر کا کام جاری ہے جس میں سینچری اسٹیل بھی شامل ہے، جو کہ ایک چینی ملکیتی کمپنی ہے اور سٹیل آف دی آرٹ مینوفیکچرنگ کی سہولت ہوگی۔ اس کے علاوہ  11 کاروباری اداروں کو 42 ایکڑ   رقبے کے ساتھ 11.826 بلین روپے کی متوقع سرمایہ کاری اور  خصوصی اقتصادی  زون میں روزگار کے 2,500 مواقع کے ساتھ صنعتی یونٹس کے قیام کے لیے زمین الاٹ کی گئی ہے۔ یہ بات خیبر پختونخوا  بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈکے سی ای او حسن د اودبٹ نے گوادر پرو کو  ایک  انٹرویو میں   بتائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ   خصوصی اقتصاد ی زون کی تعمیر 3 مرحلوں میں 6 سے 7 سال تک  مکمل ہو گی۔ زون کو بجلی کی فراہمی کا بھی تین مرحلوں میں منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں، ستمبر 2020 میں 10 میگاواٹ فراہم کی گئی تھی۔ فیز ٹو میں 160 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی اور 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور فیز تھری میں 50 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔ زون کی گیس کی ضرورت 30 Mmcfd ہے جسے وفاقی حکومت نے   منظور کر لیا ہے اور گیس ٹرانسمیشن  پائپ لائن  بچھانے کا کام دسمبر 2021 میں مکمل کر لیا گیا تھا۔

ڈاکٹر حسن نے مزید بتایا کہ بیرونی روڈ نیٹ ورک بشمول یوٹیلیٹیز کی فراہمی بھی شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ چین کا سرکاری ادارہ چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن (CRBC)   خصوصی اقتصاد ی زون کی ترقی کے لیے اپنی مارکیٹنگ میں سرگرم عمل ہے۔ سرمایہ کاری کا منصوبہ ہائی ٹیک، برآمدی قیادت والی صنعتوں پر مرکوز ہے جو مقامی قدرتی وسائل اور خوراک کی صنعت میں قدر بڑھا سکتی ہیں۔

رشکئی  خصوصی اقتصاد ی زون   سی پیک کے تحت  گو کے پی  کا  فلیگ شپ  انڈسٹریل منصوبہ ہے۔ خصوصی اقتصادہ زون    ایم1 موٹر وے پر واقع ہے اور 1000 ایکڑ سے زیادہ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اسے شمال کا گوادر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کو پڑوسی ممالک سے جوڑتا ہے، جس سے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے آنے اور اپنے صنعتی سیٹ اپ قائم کرنے کے لیے نمایاں مواقع موجود ہیں۔  مقام اور انتظامی حکمت عملی اسے سرمایہ کاری کا ایک مناسب اقدام بناتی ہے۔ اس کے ساتھ مراعات اور ٹیکس  فروی سرمایہ کاری اور زون سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
 
حسن نے کہا کہ  خصوصی اقتصادی زون  اپنے مثالی محل وقوع اور افغانستان تک آسان رسائی کی وجہ سے پاک افغان تجارتی حجم کو بڑی حد تک بڑھا سکتا ہے، جو اس وقت 833.42 ملین ڈالر ہے  ۔ انہوں نے کہا خصوصی اقتصادی زون    میں مینوفیکچرنگ صنعتی یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں جن سے  برآمدات کو فروغ ملے گا ۔ یہ تیزی سے آگے بڑھنے والی صارفی مصنوعات (کھانے، مشروبات اور دودھ)، ہلکی انجینئرنگ کی مصنوعات، اور ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی ایک بڑی صارف مارکیٹ ہے جو رشکئی میں تیار کی جا سکتی ہے اور افغانستان کو برآمد کی جا سکتی ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles