En

یونان پیسٹ کنٹرول میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو بڑھا رہا ہے

By Staff Reporter | Gwadar Pro Mar 11, 2022

کنمنگ (چائنا اکنامک نیٹ)  یونان اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (وائی اے اے ایس) کے مطابق چین اور پاکستان مشترکہ طور پر کراس بارڈر سے پودوں کی بیماریوں اور کیڑوں کی روک تھام  کو مزید  مستحکم  کر رہے ہیں، اس شعبے میں ایک مشترکہ تحقیقی مرکز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ 

  یونان اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز  کے  انٹرنیشنل کوآپریشن ڈویژن کے سربراہ نے  لاو ین جی نے بتایا کہ  خاص جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے بہت سے مختلف  کیڑے یونان کے راستے چین میں داخل ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی وہ جگہ ہے جہاں بہت سے  ہجرت کرنے والے کیڑے  آتے ہیں جن میں   آرمی  ورم  (Spodoptera frugiperda)، صحرائی ٹڈی دل (Schistocerca gregaria) وغیرہ  شامل ہیں، جو یونان اور یہاں تک کہ چین کو یہ پیشین گوئی کرنے کے لیے اہم معلومات فراہم کرتے ہیں کہ آیا یہ کیڑے چین میں داخل ہوں گے

  
گندم پاکستان کی غذا ہے۔ یونان اور پاکستان آب و ہوا، گندم کی اقسام کی خصوصیات، کاشت کے حالات میں مماثلت رکھتے ہیں، اس دوران مشترکہ چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں کنگی کی بیماری، خشک سالی، زیادہ درجہ حرارت وغیرہ شامل ہیں۔
 
2016 سے، گندم کی پیداوار پر مشترکہ تحقیق کے علاوہ، گندم کی  کنگی کی بیماری  بھی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یونان اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز  کے  ریسرچ فیلو اور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر ساجد علی کی طرف سےWheat Stripe Rust in the Middle East and the Extended Himalayan Region’کے نام سے ایک  مکالہ  جلد ہی شائع ہونے والا ہے۔
 
یونان اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز نے پاکستان، میانمار، ویتنام، لاؤس، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش وغیرہ کے ساتھ ایک مشترکہ زرعی کیڑوں پر قابو پانے کا نظام قائم کیا ہے تاکہ بڑے نقل مکانی کرنے والے کیڑوں جیسے صحرائی ٹڈی دل اور گھاس ٹیڈا، وبائی امراض اور حملہ آوروں کی نگرانی، قبل از وقت انتباہ اور ان پر قابو پایا جا سکے۔ 
 
خاص طور پر، فال آرمی ورم (Spodoptera frugiperda) کے حملے پر تحقیق میں، یونان اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز پاکستان کے ساتھ کیڑوں کی منتقلی کے راستے، خوراک کی عادات، بڑھوتری کی رفتار کا بروقت پتہ لگانے کے لیے تعاون کر رہی ہے، جو دونوں ممالک میں   کیڑوں کی روک تھام کے لیے مضبوط تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہے۔ 
 
 لاو  نے کہا یونان اور پاکستان کے درمیان زرعی ماہرین کے تبادلوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد اشفاق نے پاکستان اور یونان میں چاول کے پلانٹ شاپر پر اپنی تحقیق کامیابی سے مکمل کی جب وہ  وائی اے اے ایس  میں تھے۔ پاکستان واپس آنے کے بعد، وہ زرعی کیڑوں پر قابو پانے کے حوالے سے ہمارے ساتھ قریبی رابطے میں رہے ہیں، اس علاقے میں چین-پاک تعاون کو مؤثر طریقے سے فروغ دے رہے ہیں،''۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles