En

پاکستانی اور چینی آئی ٹی کمپنیاں  ایک دوسرے کو اپنی  سروسز  فراہم کریں گی

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 23, 2022

شنگھائی  (گوادر پرو)  آئی سی ٹی چین میں تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں سے ایک ہے اور آئی سی ٹی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حوالے سے شنگھائی چین کا دل ہے۔ آئی سی ٹی  پاکستان میں بھی  تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان اور چین کے آئی سی ٹی انٹرپرائزز کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ تعاون کے مختلف شعبوں کو تلاش کریں خاص طور پر پاکستان سے چین تک آئی سی ٹی سروسز کی آؤٹ سورسنگ یہ  بات شنگھائی میں پاکستان کے قونصل جنرل حسین حیدر نے   پاکستان پروگرام سے آئی سی ٹی ٹیلنٹ کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق ویبنار میں کہی۔

سی جی نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری   تعلقات میں بہت ترقی ہوئی ہے، خاص طور پر 2021 میں جب دوطرفہ تجارتی حجم اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس ویبینار کے دوران ہونے والی بات چیت دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان مزید تعاون کے لیے ایک انتہائی محفوظ بنیاد ڈالے گی۔

اس موقع پر، شنگھائی کی سافٹ ویئر بزنس یونین کی سیکرٹری جنرل   آنا لی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی ڈیجیٹل تبدیلی ایک اہم رجحان بن چکی ہے، اور مختلف ممالک اور خطوں نے ڈیجیٹل حکمت عملیوں کو آگے بڑھایا ہے، جیسا کہ ''ڈیجیٹل پاکستان'' وغیرہ۔.

 عالمی وبا کے پھیلاؤ اور ''بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو''  سے منسلک  مختلف ممالک  اور خطوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کی تیز رفتار کے ساتھ ترقی کی شدید مانگ ہے، جس کے نتیجے میں مختلف قسم کی ڈیجیٹل کاروباری ضروریات اور بڑی تعداد میں تعاون کے مواقع بی آر آئی  روٹ کے ساتھ ممالک اور خطوں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے سے کاروباری اداروں کو ہائی ٹیک، کثیر لسانی اور کم لاگت والے اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

ویبنار کا اہتمام قونصلیٹ جنرل آف پاکستان شنگھائی، سافٹ ویئر بزنس یونین آف شنگھائی، شنگھائی سافٹ ویئر انڈسٹری ایسوسی ایشن اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ 20 پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں اور 5 چینی آئی ٹی کمپنیوں نے ایک دوسرے کو اپنی خدمات پیش کیں۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles