En

پی ایم ایل ٹی سی پاکستانی انجینئرز کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے ملازمتیں فراہم کر رہی ہے

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 20, 2022

اسلام آباد، (گوادر پرو) پاک مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن کمپنی لمیٹڈ(پی ایم ایل ٹی سی) منصوبے کے معاہدے کے تحت ٹیکنالوجی کی آسانی سے منتقلی کے لیے پاکستانی انجینئرز کو ملازمتیں دے رہی ہے یہ بات کمپنی کے سی ای اوژانگ لی نے کہی ۔

چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی سے لاہور میں
وہ چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) توصیف فاروقی سے لاہور میں پاکستان کی پہلی ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ ( ایچ وی ڈی سی ) ٹرانسمیشن لائن کے کنورٹر سٹیشن کے دورے کے موقع پر گفتگو کر رہی تھیں۔

نیپرا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ٹرانسمیشن لائن پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی لائن ہے جس کی صلاحیت جنوب سے شمال تک ±660 کے وی پر 4,000 میگاواٹ ہے۔
 
لاہور-مٹیاری چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے تحت پہلا ٹرانسمیشن لائن منصوبہ ہے جو سندھ کے پاور اسٹیشنوں سے پنجاب کے لوڈ سینٹرز تک بجلی کی ترسیل کرتا ہے۔ یہ سی پیک کے تحت سندھ کے ضلع تھر میں زیر تعمیر مقامی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس سے بھی بجلی کی ترسیل کرے گا۔

نیپرا کے چیئرمین کو سی ای او پی ایم ایل ٹی سی نے کنورٹر اسٹیشن کے کاموں، اس کے انتظام، حفاظت اور حفاظتی اقدامات اور ہنر مند اور غیر ہنر مند پاکستانی لیبر کے روزگار کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ یہ منصوبہ تعمیر، خود چلائیں اور منتقلی (BOOT) کی بنیاد پر ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بالآخر 25 سال بعد پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے پاکستانی انجینئرز کو ملازمت دینے کا اقدام اٹھایا گیا ہے۔ چیئرمین نے چینی کمپنی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ نیپرا صارفین اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا نگہبان ہونے کے ناطے سب کو ایک یکساں موقع فراہم کرے گا اور مستقبل میں نجی شعبے کے تعاون سے ایسے میگا پراجیکٹس کا خیر مقدم کرے گا۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles