En

پاکستان اور چین نے موسمیاتی تبدیلی کے تحت کپاس کی تحقیق پر تعاون کو فروغ دیا

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 19, 2022

ملتان ( گوادر پرو ) عالمی موسمیاتی تبدیلی شدت اختیار کر رہی ہے، چین کی نیشنل نیچرل سائنس فاو¿نڈیشن ( این ایس ڈی سی ) اور پاکستان سائنس فاو¿نڈیشن (پی ایس ایف ) مل کر موسمیاتی تبدیلیوں اور کپاس اور گندم کی پیداواری اقسام میں ہونے والی تبدیلیوں اور اگلے 30 سے 50 سالوں میں موسمیاتی تبدیلی کے لئے افزائش نسل کی تجاویز کیلئے ایک ماڈل قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ 

یہ بات چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے بائیو ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی مس ژانگ روئی نے ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر، ملتان کے زیر اہتمام کلائمیٹ سمارٹ واٹر فرٹیلائزر انٹیلیجنٹ سسٹم برائے کپاس اور گندم کے بارے میں بین الاقوامی تربیتی ورکشاپ میں بتائی۔
 
یہ ماڈل اے پی ایس آئی ایم (زرعی پیداوار کے نظام سمیلیٹر) انٹیلیجنسضابطے اور فیصلہ سازی کے نظام کے تحت تیار کیا گیا ہے، جو موسمیاتی خطرے کے تحت کاشتکاری کے نظام میں با ئیو فزیکل عمل کو نقل کر سکتا ہے، فصل کی ساخت، فصل کی ترتیب، پیداوار کی پیشن گوئی، اور کوالٹی کنٹرول کو بھی بیان کر سکتا ہے۔ مختلف پودے لگانے کے پیٹرن کے تحت کٹاو¿ کے تخمینے کے طور پر، اور گندم اور کپاس کی اقسام اور پانی، کھاد اور نمک کے انتظام کے اقدامات کے مستقبل کے ڈیزائن کی سمت کی پیش گوئی کریں۔

انہوں نے کہا کہ روایتی افزائش کے مقابلے میں، جینیاتی انجینئرنگ کے طریقوں کے استعمال سے فصلوں کی ایسی اقسام پیدا کی جا سکتی ہیں جو مختلف قسم کے ماحولیاتی حالات سے زیادہ تیزی سے موافقت پذیر ہو جائیں ۔

پاکستان کپاس کی پیداوار میں دنیا کے 60 بڑے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے اور کھپت میں تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں کپاس کی صنعت، ملک میں سب سے طویل ویلیو چین سسٹم کے ساتھ، غیر ملکی زرمبادلہ کی کمائی میں 60 فی صدحصہ رکھتی ہے اور 38 فی صد افرادی قوت کو بالواسطہ یا بلاواسطہ لگاتی ہے۔

کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سی آر آئی )، ملتان میں کپاس کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر صغیر احمد نے بتایا مقامی کپاس کی صنعت کی پیداوار اور کھپت کے درمیان تقریباً 5 سے 6 ملین گانٹھوں کا فرق ہے۔

 انہوں نے کہا بڑے چیلنجوں میں موسمیاتی تبدیلی، متروک بی ٹی ،ٹیکنالوجی، بیج کا معیار، کیڑے اور بیماریاں، معیار کے مسائل، پانی کی کمی، مٹی کی صحت، پیداواری ٹیکنالوجی سے آگاہی، اور محدود منافع شامل ہیں ۔ 

خاص طور پر، موسمیاتی تبدیلی پاکستان اور چین دونوں کو درپیش ایک مشترکہ چیلنج ہے، جس سے کپاس کی کاشت کو خطرات لاحق ہیں۔
 
 ڈاکٹر صغیر احمد نے خبردار کیا کہ سی آر آئی ملتان کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پنجاب میں 2020 سے 2021 تک 1.5 ڈگری اضافے کے ساتھ سب سے زیادہ اور کم ترین دونوں درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان ظاہر ہوتا ہے ۔ حکمت عملی اور اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک پنجاب کے زیادہ تر علاقوں پر گلابی سنڈی کا حملہ ہو جائے گا۔

چین میں گزشتہ سات دہائیوں میں ہر دس سال بعد اوسط سالانہ درجہ حرارت میں 0.24 کا اضافہ ہوا۔ گزشتہ 20 سال 20ویں صدی کے آغاز کے بعد سے گرم ترین رہے۔ اس کے نتیجے میں، شدید موسم جیسے زیادہ بارش اور خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 ژانگ روئی نے کہاجواب میں 630 سے زیادہ کپاس کے جراثیم جمع کیے گئے،کپاس کی پوری ترقی کی مدت کے دوران، ان کی نشوونما کی صلاحیت، پاکیزگی اور کیٹامین کے لیے حساسیت کا مشاہدہ کیا گیا اور موسمیاتی سمارٹ اقسام کی شناخت کے لیے تجزیہ کیا گیا۔

 انہوں نے کہا جینیاتی انجینئرنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، نمایاں طور پر بہتر ماحولیاتی موافقت کے ساتھ کپاس کی اقسام کاشت کی گئی ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان کپاس کی تحقیق پر قریبی تعاون کی توقع ہے۔ ڈاکٹر صغیر احمد نے بتایا کہ سی آر آئی ملتان میں سی پیک کے تحت پاک چین مشترکہ کاٹن بریڈنگ لیب کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے۔ وہ پاکستان میں چینی جدید ترین جی ایم او ٹیکنالوجی کی منتقلی، جراثیم کے تبادلے، سائنسدانوں کی تربیت، میکانائزیشن تعاون، اور مشترکہ کانفرنس کی بھی توقع رکھتے ہیں۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles