En

گوادر فاصلہ اور نقل و حمل کی لاگت کو بڑے پیمانے پر کم کرے گا

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 16, 2022

اسلام آباد (گوادر پرو)جنرل آف ایڈوانس ٹرانسپورٹیشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گوادر یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے ایک متبادل، محفوظ، مختصر اور سستا راستہ ہوگا۔

گوادر کے ذریعے چین  نہ صرف سفر کا دورانیہ  بچا  ئے گا بلکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اربوں ڈالر   بچا  سکتا ہے۔
 
تحقیق سے ظاہر ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں کاشغر اور منزل  مقصودکے درمیان 40 فٹ کے کنٹینر کی نقل و حمل کی لاگت میں تقریباً 1450 امریکی ڈالر اور یورپ میں منزل مقصود  کے لیے 1350 امریکی ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
 
مزید برآں، مشرق وسطیٰ میں منزلمقصود کے لیے سفر کے وقت میں 21 سے 24 دن اور یورپ میں  منز  ل مقصود   کے لیے 21 دن کی کمی کی گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کاشغر سے  منزل مقصود  کا فاصلہ 11,000 سے 13,000 کلومیٹر تک کم ہو گیا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی  پیک) کے تحت چین کے لیے سب سے اہم فائدہ چین کا تجارتی راستہ 12,000 کلومیٹر کے موجودہ سمندری راستے سے 2,000 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا۔
 

خلیجی ممالک سے تیل کی کنسائنمنٹس کو پاکستان کے راستے چین پہنچایا جائے گا، جب کہ غیر تیل کی درآمدات کو گوادر کے ذریعے ٹرانسپورٹ روٹ کے ذریعے دنیا میں پہنچایا جائے گا۔

محققین کا خیال ہے کہ زمینی راستے کی تعمیر اور بہتری کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان  فاصلے اور سفر کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی اور دونوں معیشتوں کی جی ڈی پی میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

تجارت میں چین کے لیے فائدہ نہ صرف سفر کے وقت اور فاصلے میں کمی بلکہ بڑی مارکیٹ کے ساتھ رابطے کے ذریعے بھی ہو گا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے مختلف خطوں کے درمیان عالمی تجارتی بہاؤ میں ترقی اور تجارت میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔

تحقیقی رپورٹ اس حقیقت کی نمائندگی کرتی ہے کہ چین  سی پیک کے نئے روٹ سے اپنی درآمدات اور برآمدات پر یورپ اور مشرق وسطیٰ کے منتخب ممالک سے شپنگ لاگت کے لحاظ سے تقریباً 71 بلین امریکی ڈالر بچائے گا۔

دوسری جانب اس روٹ کے ساتھ پاکستان میں مقامی صنعت اورسروسز کے شعبے کو بھی فائدہ ہوگا۔ راستے میں تجارتی سرگرمیاں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کریں گی۔

مزید یہ کہ وسطی ایشیائی ریاستیں بھی گوادر پورٹ کے ذریعے دنیا سے رابطہ قائم کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے گوادر پورٹ اور اس سے منسلک سہولیات میں دلچسپی ظاہر کی۔

اس لیے سی پیک کو پورے خطے کے لیے گیم چینجر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور غیر ساحلی وسطی ایشیائی ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان، کرغزستان اور افغانستان جیسے خشکی سے گھرے وسطی ایشیائی ممالک گوادر بندرگاہ سے مختصر ترین سمندری راستے کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles