En

چین پا ک جوائنٹ وینچر سٹیل مینوفیکچرر دوبارہ پیداوار شروع کرنے کے لیے تیار

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 12, 2022

اسلام آباد (گوادر پرو) الحاج ایشیا سٹار سٹیل کمپنی ابتدائی مشکلات پر قابو پانے کے بعد دوبارہ پیداوار شروع کرنے کے لیے تیار ہے،  یہ بات فرم کے ڈپٹی چیئرمین زبیر خان نے گوادر پرو کو بتا ئی۔

الحاج اسٹیل، چین کے ہبئی شنگانگ آئرن اینڈ اسٹیل گروپ اور پاکستان کے الحاج گروپ کے درمیان اسٹیل انڈسٹری میں نجی شعبے کا سب سے بڑا مشترکہ منصوبہ ہے۔  جے وی نے صوبہ کے پی کے صوابی ضلع میں گدون انڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک اعلیٰ معیار کا 60 گریڈ کا سٹیل مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کیا ہے جس کی تنصیب کی صلاحیت 1,500 ٹن یومیہ، یا 0.5 ملین ٹن سالانہ ہے۔

زبیر خان نے کہا الحاج اسٹیل نے 2020 کے آخر میں تجارتی سرگرمیاں شروع کیں اور 2021 کے اوائل میں چند مہینوں کے بعد پیداوار معطل کردی۔ ہمیں پاکستانی مارکیٹ کی مخصوص عمل  اور کوویڈ 19 وبائی امراض سے پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ہمیں پلانٹ بند کرنا پڑا۔ تاہم  ہم اب ایک نئی مارکیٹنگ حکمت عملی کے ساتھ تیار ہیں اور ہمارا چینی پارٹنر جلد ہی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

جے وی کا مقصد دوسرے مرحلے میں سالانہ 2 ملین ٹن تک کی صلاحیت کو بڑھانا ہے تاکہ کراچی میں سرکاری طور پر چلنے والی پاکستان اسٹیل ملز کے بعد پاکستان میں سب سے بڑا اسٹیل بنانے والا بن جائے، جو اس وقت غیر فعال ہے۔

یہ فرم عائشہ سٹیل ملز کے بعد موجودہ صلاحیت کے ساتھ نجی شعبے کی دوسری سب سے بڑی سٹیل مینوفیکچرر ہے، جس کی نصب صلاحیت 0.7 ملین ٹن سالانہ ہے۔ عائشہ اسٹیل 2012 میں پاکستان کی عارف حبیب لمیٹڈ اور دو جاپانی فرموں کے درمیان  جوئنٹ وینچرکے طور پر قائم کی گئی تھی۔ تاہم بعد میں عارف حبیب نے زیادہ تر حصص حاصل کر لیے۔

الحاج اسٹیل نے 500 سے زیادہ پاکستانی اور چینی کارکنوں کو ملازمت دی ہے، اور اسے گدون انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے اپمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

گدون اسٹیٹ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ الحاج اسٹیل کو  روپے کی قدروں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کام بند کرنا پڑا۔ تاہم، انہوں نے الحاج اسٹیل کی انتظامیہ کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرم نے خام مال کی خریداری اور عملے کو کام پر واپس بلانے سمیت اسٹیل کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔

زبیر خان نے کہا کہ اگر گدون انڈسٹریل اسٹیٹ کو     ایم 1 موٹر وے اور سوات ایکسپریس وے سے منسلک کر دیا جائے تو   یہ  چینی سرمایہ کاروں کو راغب کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے ایم 1 لنک منصوبے پر کاغذی کارروائی شروع کر دی ہے، جس سے زون کو مزید فروغ ملے گا۔ کے پی اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے مطابق  یہ زون 1,116 ایکڑ رقبے پر  محیطہے، جس میں صنعت کاری کے لیے تمام ضروری سہولیات موجود ہیں۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles