En

یو جی کا سی پیک منصوبوں میں خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں اہم کردار ہے

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 9, 2022

گوادر  (گوادر پرو)  چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے دوران صوبہ بلوچستان ملک کا سب سے زیادہ مستفید ہونے والا حصہ ہوگا،   یونیورسٹی آف گوادر (یو جی) کا  سی پیک  منصوبوں میں اعلیٰ ہنر اور زیادہ اجرت والی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں اہم کردار ہے  ۔  یو جی کے فارغ التحصیل مرد اور خواتین دونوں  گوادر اور صوبے کے باقی حصوں میں جاری اور آنے والے سی پیک  منصوبوں میں مؤثر طریقے سے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

  وزیر اعظم عمران نے منگل کو نوشکی، بلوچستان کے اپنے دورے کے دوران کہا صدر شی  جن پنگ  نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ اگلے مرحلے میں، بلوچستان سی پیک سے سب سے زیادہ مستفید ہوگا،  سی پیک  کا دوسرا مرحلہ صنعت کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہماری زراعت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔

 یو جی نے ملازمتوں کے لیے گریجویٹ تیار کرنا شروع کر د یئے  ہیں، جن کے لیے تخلیقی صلاحیتوں، اختراعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک کے دور دراز  علاقوں تک تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانے کے علاوہ یو جی    تعلیم میں صنفی مساوات کے فرق کے خلاف  ہے۔

گزشتہ ماہ یونیورسٹی نے شعبہ تعلیم، کامرس، مینجمنٹ سائنس اور کمپیوٹر سائنس میں داخلے کے لیے پہلا انٹری ٹیسٹ اور انٹرویوز کا انعقاد کیا۔ یہ حوصلہ افزا ہے کہ فروری 2022 میں شروع ہونے والے سیشن  2022-25کے لیے خواتین کی کافی تعداد کا  اندراج کیا گیا ہے۔
 

محکمہ تعلیم کی میرٹ لسٹ کے مطابق 67 اہل امیدواروں میں سے 27 خواتین ہیں۔ مریم بہرام 97.42 فیصد مجموعی نمبروں کے ساتھ بی ایڈ (HONS) کے اہل امیدواروں کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔

 بی ایس کامرس کلاس کے شعبہ  میں، 16 اہل امیدواروں میں چھ خواتین ہیں جبکہ پانچ خواتین نے مینجمنٹ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔

خواتین نے بھی شعبہ کمپیوٹر سائنس میں داخلہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور 25 کامیاب امیدواروں میں سے 8 خواتین نے  بی ایس  انفارمیشن ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا ہے۔

2021 میں، بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے ''یونیورسٹی آف گوادر بل  2018'' کو ''یونیورسٹی آف تربت کے گوادر کیمپس کو صوبہ بلوچستان کے جنوب مغربی حصے میں ایک نئی یونیورسٹی میں اپ گریڈ کرنے کے لیے'' پاس کیا۔

پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے جولائی 2016 میں گوادر میں یونیورسٹی آف تربت کے ذیلی کیمپس کو مطلع کیا تھا جبکہ کیمپس میں جنوری 2017 میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی گئی تھیں۔ سب کیمپس میں چار شعبہ جات میں صرف چار پروگرام ہیں۔ 2017 میں گوادر کیمپس کے قیام کے بعد سے، خواتین کو ادارے میں داخل کیا گیا ہے۔

2017 میں گوادر میں  یو او ٹی کے کیمپس کے آغاز کے ساتھ، خواتین کی کافی تعداد نے کیمپس میں داخلہ لیا؛ ان میں سے کچھ نے اپنا کورس مکمل کر لیا ہے جبکہ دیگر ابھی پڑھ رہے ہیں۔ یونیورسٹی گوادر کی خواتین کو بااختیار بنانے میں کس طرح مدد کرتی ہے یہاں کامرس ڈیپارٹمنٹ کی سابق طالبہ خالدہ سید بخش (2017 بیچ) کی کہانی ہے، جو اپنے گھر سے ایک آن لائن کاروبار چلاتی ہے۔   انہوں نے کہا اپنے دو سالہ تعلیمی سفر کے دوران، میں نے نہ صرف پیشہ ورانہ مہارتیں سیکھی ہیں بلکہ اپنی شخصیت میں بھی بہت بڑا فرق محسوس کیا ہے، مجھے ایک خاتون ہونے کے باوجود، کامرس کے شعبے کو کیریئر کے آپشن کے طور پر منتخب کرنے کے اپنے فیصلے پر فخر ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles