En

چینی کمپنیاں پاکستان کے زرعی شعبے کو فروغ دینے کے لیے پیش پیش

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 8, 2022

 

اسلام آباد (گوادر پرو)  فصلوں کی پیداوار اور بیج کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایگریکلچرمیکانائزیشن میں تعاون   کے لیے  چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (سی ایم ای سی) پاکستان میں زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا مرکز قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ بات وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور نے کہی۔

  منصور نے پیر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا  کہ ابتدائی طور پر، یہ مرکز G2G امداد کی بنیاد پر قائم کیا جائے گا جس کی تخمینہ رقم 50 ملین امریکی ڈالر ہے۔  انہوں نے کہا کہ زراعت میں تحقیق اور مہارت رکھنے والی چینی کمپنیاں پاکستانی کسانوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں (جے وی) کے لیے  آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز پاکستانی کسانوں کو  ایگریکلچر میکانائزیشن کی تربیت دے گا ۔

وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے منصور نے کہا کہ چینی کمپنی زینگ بینگ گروپ پاکستان میں ایم -3 کے اندر ایک فیکٹری قائم کر رہی ہے۔ کمپنی نے پاکستان میں ایک جے وی میں دلچسپی ظاہر کی۔ پاکستان کی سب سے بڑی فرٹیلائزر کمپنی، فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) اور ژینگ بینگ گروپ نے جنین، مویشیوں اور پولٹری فیڈ اور کاٹیج فارمنگ میں مشترکہ ویو کے لیے ایک ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہم آہنگی پیدا کریں گے اور مشترکہ طور پر کام کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ چینی کمپنی پاکستان میں سویا بین اور مکئی  کی کاشت میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔ وہ مصنوعات چین کو برآمد کریں گے۔  یہ ایک ایکسپورٹ پر مبنی منصوبہ ہو گا۔ 

خالد منصور نے بتایا کہ چین کا رائل گروپ پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا۔ وہ بھینسوں   کے   منہ کھر کی بیماری سے پاک'' فارم قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق  50 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ، رائل گروپ 8000 جانوروں پر مشتمل چار بڑے فارم شروع کرنا چاہتا تھا جس میں دودھ کی پروسیسنگ یونٹس ہوں گی۔ مسٹر منصور نے کہا کہ ''یہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی لائے گا جس میں دودھ کا پاؤڈر، پنیر اور پیکج دودھ شامل ہے۔  ان کے مطابق  رائل گروپ کے ایف ایف سی یا فوجی فاؤنڈیشن کے ساتھ مشترکہ معاہدہ کرنے کی توقع ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles