En

پاکستان چین کی مدد سے سیمی کنڈکٹرز زون قائم کر ے گا ،فواد  چوہدری

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 8, 2022

بیجنگ  (گوادر پرو) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے   کہاہے کہ    پاکستان نے چین کی مدد سے سیمی کنڈکٹرز زون کی تعمیر، پاکستان کو جدید آلات میں خود کفیل بنانے اور ترقی کی نئی راہیں کھولنے کا ایک پرجوش منصوبہ تجویز کیا ہے۔   

گوادر پرو کو انٹرویو  میں انہوں نے کہا  کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کے دوران انہوں نے سیمی کنڈکٹرز کی صنعت کو پاکستان منتقل کرنے پر بات چیت کی اور اس ٹیکنالوجی کا کردار نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے لیے بھی بہت اہم ہے۔

 وزیر اطلاعات و نشریات نے مزید کہا کہ  ہم چاہتے ہیں کہ چینی ٹیکنالوجی  کمپنیاں پاکستان آئیں اور پاکستان کو سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کا مرکز بنائیں ۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور اس دور میں انہوں نے سیمی کنڈکٹرز ٹیکنالوجی کے حوالے سے بہت سے مفاہمت ناموں اور معاہدوں پر دستخط کیے اور پاکستانیوں کو سیمی کنڈکٹرز کی مہارت کی تربیت کے لیے چین کے ساتھ تعاون بھی کیا۔

"ہم پاکستان میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائننگ بھی شروع کرنا چاہیں گے۔ مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ چینی سرمایہ کار پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بہت خواہش مند ہیں اور ٹیکنالوجی زون کو سیمی کنڈکٹر زون میں تبدیل کر دیا جائے گا ۔

چوہدری فواد کا مزید کہنا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا بہت بڑا شعبہ ہے جہاں دونوں ممالک تعاون کر سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ موبائل فونز اب پاکستان میں اسمبل ہو چکے ہیں لیکن وہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان میں موبائل فونز کی مکمل مینوفیکچرنگ شروع کرنا چاہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صحت سے متعلق آلات کے شعبے میں دوطرفہ تعاون میں اضافہ ہوا ہے جو کہ بہت اہم بھی ہے اور  کووڈ ـ19 کے ابتدائی چند ماہ میں وہ اس شعبے سے متعلق ہر چیز درآمد کر رہے تھے لیکن اب پاکستان ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔ 

"یہ ایک تاریخی  ہدف ہے جو ہم نے مختصر عرصے میں حاصل کیا ہے اور اب صحت کا شعبہ تعاون کے لیے کھلا ہے۔ پاکستان کے پاس ہنر مند لیبر، سستی مزدوری اور ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملا کر ہماری مدد کریں گی۔ ٹیکنالوجی زون، اور ہم ان شعبوں میں بڑے تعاون کے ساتھ آنے کے قابل ہو جائیں گے ۔

انہوں نے امید ظاہر کی  کہ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ کے بعد بہت سی چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں پاکستان آئیں گی کیونکہ سیمی کنڈکٹر ہر ٹیکنالوجی کا بنیادی عنصر ہے، جو مقامی مینوفیکچرنگ مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن لانے میں مدد کرے گا۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورے کے دوران چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا اور دونوں اطراف نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، طبی تشخیص اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles