En

عمران خان کا دورہ پاک چین شاندار تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہوگا ،گوادر پرو

By Staff Reporter | Gwadar Pro Feb 4, 2022

بیجنگ (گوادر پرو ) وزیراعظم عمران خان کا دورہ پاک چین تعلقات کی 7 دہائیوں کی شاندار تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہوگا۔
 
یہ دورہ چین کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کے مضبوط احساس کی عکاسی کرتا ہے۔

دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ وزیراعظم عمران خان کا استقبال کریں گے اور وزیراعظم لی کی چیانگ سے اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی۔

مختلف شعبوں بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں مزید ٹھوس اور دیرپا اقتصادی، تجارتی، سیاسی اور تزویراتی شراکت داری کی تعمیر پر بات چیت کی جائے گی۔

چین پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر کسی بھی ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات تاج میں ہیرے کی طرح مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ شاندار تعلقات درحقیقت شہد سے زیادہ میٹھے اور ہمالیہ سے بلند ہیں اور آہنی بھائی چارے کے مضبوط احساس پر مبنی ہیں جو دونوں طرف کے لوگوں کے دلوں پر نقش ہے۔

بنیادی طور پر پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی، فرنیچر، زراعت، آٹوموبائل، فٹ ویئر، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی امید رکھتا ہے۔

پاکستانی تاجر برادری کی نظریں اس وقت چین، وسطی ایشیا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان عالمی رابطے کی کوشش کے طور پر چلنے والی مال بردار ٹرین خدمات پر ہیں۔

اعلیٰ قیادت سی پیک پر مرکزی توجہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوو¿ں پر تبادلہ خیال کرے گی۔

یہ اہم دو طرفہ دورہ ٹھوس سفارتی تعلقات کے ستر سال کی تقریبات کا اختتام کرے گا جہاں اس اہم موقع کی یاد میں 140 سے زائد تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔

وزیراعظم کا اہم دورہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو تقویت اور فروغ دے گا۔

اعلیٰ ترین سرکاری عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کا یہ چوتھا دورہ ہوگا۔ یہ دورہ بھی دو سال کے بعد طے کیا گیا تھا، خاص طور پر جب چین ہمت کے ساتھ کووڈ-19 وبائی امراض کا مقابلہ کر رہا تھا۔

اس سے قبل، صدر عارف علوی نے وبائی امراض کے آغاز میں ہی چین کی ہمت اور اس کی وبا کے خلاف جنگ میں لچک کا بھرپور احترام ظاہر کرنے کے لیے ریاستی سطح کا دورہ کیا۔

پاکستان اور چین دونوں بدلتے ہوئے علاقائی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد نئی شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں ۔

دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک پرامن اور مستحکم خطے کے لیے کام کیا ہے تاکہ تنازعات اور غربت سے دوچار خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ دورہ ہمارے سات دہائیوں کے مضبوط تعلقات کی شاندار تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہو گا اور امن اور خوشحالی کی مشترکہ منزل کے لیے ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کے لیے مجموعی طور پر اعتماد پیدا کرے گا۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles