En

سی پیک،کیروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ تکمیل کے مرحلے میں داخل، قومی گرڈ سے منسلک گیا، اہلکار

By Staff Reporter | Gwadar Pro Jan 23, 2022

اسلام آباد  (گوادر پرو)  720 میگاواٹ کے کیروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کے 95 فیصد سے زیادہ سول اور الیکٹرو مکینیکل کام ہو چکے اور یہ منصوبہ  تکمیل کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے دو سینئر عہدیداروں نے گوادر پرو کو بتایا کہ  کیروٹ ایچ پی پی چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) اقدام کے تحت ابتدائی  تکمیل  کے اعلیٰ ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے۔
 
رن آف ریور پروجیکٹ پائیدار، کم لاگت، صاف اور سبز توانائی کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ چائنا تھری گورجز کارپوریشن (سی ٹی جی) ایک فری  پاور پروڈیوسر (آ ئی پی پی) کے طور پر 2 بلین ڈالر کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔
 
آنے والے مہینوں میں پاور پلانٹ کے 180 میگاواٹ کے  چار  یونٹس میں سے ہر ایک کو آزاد انجینئرز اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی- گارنٹی (سی پی پی اے- جی) کی نگرانی میں 25 سے 30 مختلف  ٹیسٹ سے گزرنا پڑے گا، جو منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کا  واحد پبلک سیکٹر خریدار ہے۔ 
 
 اس وقت  آبی ذخائر کو  جمع  کرنے  کا کام آخری مراحل میں ہے، اور پانی کے کم بہاؤ کی وجہ سے ہر یونٹ کا الگ الگ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ جون اور جولائی کے مہینوں میں، جب پانی کا پورا بہاؤ ہوگا، پلانٹ کے تمام یونٹس کو ایک ساتھ ٹیسٹ کیا جائے گا۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ پروجیکٹ اگست میں کمرشل آپریشن شروع کرے گا  اور  سی پی پی  اے۔ جی  نے  پروجیکٹ کی کمرشل آپریشن کی تاریخ (سی او ڈی) میں توسیع کر دی ہے۔
 
ایک متعلقہ پیش رفت میں  نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) نے گزشتہ جمعہ کو کہا کہ اس نے پاور پلانٹ کو کامیابی کے ساتھ قومی گرڈ سے منسلک کر دیا ہے۔
 
این ٹی ڈی سی نے کہا کہ یہ منصوبہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور آس پاس کے اضلاع میں لوڈ مینجمنٹ کے مسائل پر قابو پانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
 

پی پی آئی بی   حکام نے کہا کہ تکمیل پر، یہ منصوبہ تقریباً 3.2 بلین یونٹ سستی بجلی قومی گرڈ  کو  فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 30 سال کے کمرشل آپریشنز کے بعد  اہم  اثاثہ پنجاب حکومت کو منتقل کر دیا جائے گا۔
 
حکام کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت  ہائیڈرو پاور  منصوبے ملک کی اقتصادی اور مالیاتی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے ان منصوبوں پر کچھ خرچ نہیں کیا، لیکن ا ٓئندہ  دہائیوں  کے دوران اربوں ڈالرز ملیں گے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles