En

پا کستان میں بعد از وبا کے دور میں اشیا ئے ضروریہ اور روپے کی قیمت پر نظر

By Staff Reporter | Gwadar Pro Jan 21, 2022

اسلام آباد (گوادر پرو)  وبا کے بعد کے دور میں کام اور پیداوار کو دوبارہ شروع کرنے،  پاکستان میں کاروباری اداروں کی مدد  ، ان کی مارکیٹ  کو سمجھنے اور پاکستانی روپے کی شرح  تبادلہ کی توقع کے بارے میں بصیرت حاصل کرنے میں مدد   کے لیے ''آؤٹ لک آف کموڈیٹی   اینڈ  پی کے آر ریٹ  ان پوسٹ  ایپیڈیمک  ایرا  آف کووڈ  کے اعنوان سے  ایک ویبنار  کا انعقاد کیا گیا۔

گوادر پرو کی جمعہ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویبنار کا اہتمام آل پاکستان چائنیز انٹرپرائزز ایسوسی ایشن (اے پی سی ای اے ) اور بینک آف چائنا پاکستان آپریشنز نے کیا۔
 
اس موقع پر پاکستان میں چینی سفارتخانے کے اقتصادی امور کے قونصلر   لی یونگ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر نے پاکستان کی معاشی ترقی میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا   کہ 2020 کے آغاز سے   کووڈ 19 وبائی امراض کی پانچ لہروں نے پاکستان میں تباہی مچا دی ہے۔ نتیجے کے طور پر  کچھ کاروباری اداروں کو کئی مسائل کا سامنا ہے، جیسے کہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور  روپے کی قدر میں کمی۔

  انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن   میں سنٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ  کے  ڈائریکٹر پرو فیسر ڈاکٹر قاضی مسعود احمد نے نے پاکستان میں شرح  تبادلہ  کے حوالے سے بتایا کہ مارچ 2020 میں  پاکستان میں شرح تبادلہ   6.7 فیصد کم ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت   166 روپے ہو گئی جس کی وجہ 1.89 ملین امریکی ڈالر ہاٹ منی  کا  اخراج   ہے۔
 
انہوں نے پیشن گوئی کی کہ   2022  روپے کے مقابلے میں ڈالر  195  کا ہو جائے گا۔ پیشن گوئی ریگریشن تجزیہ پر مبنی ہے  جو تاریخی اقدار کو مدنظر رکھتی ہے۔

تجارتی، مالیاتی اور مالیاتی پالیسیوں میں موجودہ اور متوقع تبدیلیاں، مارکیٹ سے چلنے والے زر مبادلہ کی شرح کا نظام، اور آ ئی ایم  ایف پروگرام کے نفاذ جیسے عوامل پاکستان میں  شرح  تبادلہ  میں کمی کا باعث بن سکتے  ہیں ۔ 
 
بینک آف چائنا کے ہیڈ آفس میں  گلوبل مارکیٹس ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ جنرل مینیجر سوئی ہائیتاؤ نے کہا  کہ 2022 میں اشیاء کو ''نارملائزیشن'' سے گزرنا پڑے گا۔
 
کرنسی کے معمول پر آنے کی توقع ہے کیونکہ مانگ میں تیزی ختم ہو رہی ہے۔، ماحول دوست اشیاء کی مانگ معمول پر آنے کی توقع ہے، سپلائی کا بحران کم ہونے کی امید ہے، جبکہ ہمیں غیر متوقع خطرات سے چوکنا رہنا ہوگا۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles