En

چین کی سرمایہ کاری پاکستان  کے تجارتی خسارے کو کم کر سکتی  ہے

By Staff Reporter | Gwadar Pro Dec 30, 2021

اسلام آ باد (گوادر پرو)  چین کی پاکستان کے ساتھ دوستی سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے،چین  پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جو معیشت کو بحال کرنے اور  صنعتوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی لانے کی صلاحیت رکھتی  ہے۔ تمام شعبوں میں سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
 
 پاکستان  کو غیر ملکی سرمایہ کاری خصوصاً چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے   سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ دریں اثنا  سمجھا جاتا ہے کہ چینی کاروباری اداروں کو طویل مدتی کاروباری امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور پاکستان میں اپنے منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے، جو کہ معاشی ترقی اور ملازمتوں کی تخلیق کے لیے اہم ہے۔
 
مندرجہ بالا خیالات کا  اظہار  فرینڈز آف اکنامک اینڈ بزنس (ایف ای بی آر) آف پاکستان صدر کاشف انور نے گوادر پرو  کو  ایک حالیہ انٹرویو  کیا۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض اور عالمی صورتحال کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے چار مہینوں میں ایف ڈی آئی حوصلہ افزا نہیں رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر چیز کے باوجود چین اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو خطے میں پاکستان کی اقتصادی اور جیو پولیٹیکل پوزیشن کو دیکھنا چاہیے اور اس کے مستقبل کے امکانات پر اپنا اعتماد برقرار رکھنا چاہیے۔
 
چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  2020 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 17.49 بلین ڈالر رہا۔ اور یہ تعداد 2021 کی پہلی ششماہی میں پہلے ہی 12.56 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 63.0 فیصد زیادہ ہے۔   کاشف کی رائے میں ممالک کے درمیان حقیقی تجارت کسٹم کے سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔ چین اور پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک طریقہ کار ترتیب دینا چاہیے کہ تمام درآمدات اور برآمدات باضابطہ ذرائع سے ہوں۔ 

پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری ان آپشنز میں سے ایک ہے جو پاکستان میں آسمان کو  چھوتے تجارتی خسارے کو کم کرنا ممکن بنا سکتی ہے۔   کاشف نے وضاحت کی کہ  پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور  کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے  پاکستان کو اپنی صنعت، افرادی قوت اور تمام اثاثوں کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے فوری طور پر چین سے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ 
 
پاکستان چائنا بزنس انویسٹمنٹ فورم (PCBIF) کا آغاز ہونے والا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان تبادلے اور مواصلات کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ تعاون کے نئے راستے کھول سکیں۔   کاشف نے اس اقدام کو سراہا اور روشنی ڈالی کہ گر چینی سرمایہ کار پاکستان نہیں آتے تو ہم اپنی صنعتوں کو فروغ نہیں دے سکیں گے۔  
 
کاشف نے کہا  پاکستانی کاروباری اداروں کی اکثریت SMEs کی ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے قائم کر کے  ایف ڈی آئی کو راغب کرنے میں اپنا حصہ ادا کر سکتی ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles