En

دستاویزی فلم''  قراقرم ہائی وے ویئرمین اینڈ ماؤنٹینز میٹ '' کا پریمیئز ریلیز

By Staff Reporter | Gwadar Pro Dec 29, 2021

اسلام آباد(گوادر پرو) پاک چین دوستی  کی  ایک  علامت  قراقرم ہائی وے  کو اجاگر کرنے والی فلم  '' قراقرم ہائی وے ویئرمین اینڈ ماؤنٹینز میٹ ''   کا پریمیئر   اسلام آباد میں بڑی اسکرین پر ریلیز کیا گیا۔ دستاویزی فلم کے پریمیئر کا اہتمام بحریہ ٹاؤن کے  ایرینا سینما میں مکمل حاضرین کے ساتھ کیا گیا۔ فلم قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے دوران دی گئی قربانیوں کو اجاگر کرتی ہے، جو کہ 1300 کلومیٹر کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور اسے اکثر دنیا کا آٹھواں عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ فلم ڈیلیریم فلم پروڈکشن انکارپوریشن نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے اشتراک سے تیار کی ہے، جو کہ پاک فوج کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہم کمانڈز میں سے ایک ہے۔

ایک گھنٹہ طویل دستاویزی فلم   قراقرم ہائی وے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو دو برادر ملکوں  چین اور پاکستان  کو ملانے والا ایک زمینی راستہ ہے۔ منصوبے کی تعمیر کے دوران تقریباً 692 پاکستانی اور 108 چینی جان کی بازی ہار گئے۔ یہ فلم اس عرصے کے دوران ریکارڈ کیے گئے کچھ واقعات پر مبنی ہے۔ فلم میں، سابق پاکستانی فوجی اہلکار جو اس پروجیکٹ کا حصہ تھے، وہ بیان کرتے ہیں جو انہوں نے پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران دیکھا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید ناصر، میجر جنرل (ریٹائرڈ) صبیح الدین بخاری، میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد افسار اور بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) اقبال احمد پاک فوج کے ان سابق افسران میں شامل ہیں جو فلم میں اپنی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔


نامور پاکستانی مصنف اور ناول نگار مستنصر حسین تارڑ نے    قراقرم ہائی وے کے تاریخی پس منظر اور مقامی لوگوں کے لیے آنے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔ دستاویزی فلم میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح اس منصوبے نے شمالی علاقے کے لوگوں کو مرکزی دھارے میں لایا۔

  ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل کمال اظفر نے کہا دستاویزی فلم کا مقصد اپنے لوگوں کو بتانا ہے کہ    قراقرم ہائی وے کیسے بنایا گیا تھا۔ منصوبے کی تعمیر کے دوران کتنی مشکلات  کا سامنا کرنا پڑا  اور دنیا کے 8ویں عجوبے کو مکمل کرنے میں کیا چیلنجز تھے۔

مستنصر حسین تارڑ کے مطابق زمین کا جائزہ لینے کے بعد  بہت سے غیر ملکی کنٹریکٹرز اور انجینئرز نے اس منصوبے پر عمل درآمد کو ناممکن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ ایک جرمن انجینئر نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستانیوں کو کرنے دیں“ اور پاکستانیوں نے (چینی مدد سے) معجزہ کر دکھایا۔
  
سیکرٹری الپائن کلب آف پاکستان کرار حیدری نے گوادر پرو کو بتایا کہ کے کے ایچ نے گلگت بلتستان میں اپنے لوگوں کو باقی دنیا سے جوڑ کر انقلاب برپا کیا۔ ''کے کے ایچ  نے پاک چین دوستی کو مزید مضبوط کیا اور دو طرفہ تجارت کے دروازے کھولے،'' انہوں نے  مزید کہا آج کے کے ایچ  سی پیک کی ریڑھ کی ہڈی اور شہہ رگ  ہے۔

ان کے مطابق '' ویئرمین اینڈ ماؤنٹینز میٹ '' جیسی فلمیں بھی گلگت بلتستان میں سیاحت کو  فروغ دیں گی۔

23 سالہ شمسہ فلم کے ذریعے  کے کے ایچ  کی تاریخ کے بارے میں جان کر بہت خوش تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہکے کے ایچ   دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے، جسے پاکستانی فوج کے جوانوں اور برادر چین سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھیوں نے ممکن بنایا۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles