En

چین پاک یونیورسٹیاں سمندری معلومات میں تعاون کو فروغ دیں گی

By Staff Reporter | Gwadar Pro Dec 25, 2021

ہاربن (چائنا اکنامک نیٹ) چین اور پاکستان سمندری معلومات کی تحقیق اور ڈیٹا کے تبادلے میں قریبی تعاون کر رہے ہیں، اس کا انکشاف ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے حال ہی میں منعقدہ تیسری چائنا پاکستان میرین انفارمیشن ورکشاپ سے ہوا۔
ایک جامع اور بین الضابطہ شعبے کے طور پر سمندری معلومات میں الیکٹرانکس، معلومات، مواصلات، کمپیوٹر سائنس، نیٹ ورک، مصنوعی ذہانت وغیرہ سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔ پیچیدگی اور تنوع کی وجہ سے معلومات کے حصول اور پروسیسنگ کے لیے نئے طریقہ کار، نظریات اور طریقوں کو تلاش کرنے اور مختلف قسم کی معلومات کے مو¿ثر امتزاج کو حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
گزشتہ چند سالوں میں، ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی نے اپنے سائنسی تحقیقی وسائل کو پاکستانی تحقیقی اداروں کے ساتھ مربوط کیا ہے، جس میں گہرائی سے تعاون کو فروغ دینے کے لیے چین پاکستان مشترکہ لیبارٹریوں کا قیام بھی شامل ہے۔
مزید برآں ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی اور میرین سائنس میں پاکستانی تحقیقی اداروں کے درمیان اسکالرز، طلباء اور تدریسی عملے کے درمیان تیزی سے زیادہ رابطے اور تبادلے ہو رہے ہیں۔ گریجویشن کے بعد، پاکستانی طلباءزیر آب انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق صنعتوں میں اپنا کیریئر بنانے کے لیے اپنی مادر وطن واپس لوٹتے ہیں، اس طرح دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید گہرا ہوتا ہے۔
 ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی کے کالج آف انڈر واٹر ایکوسٹک انجینئرنگ کے ڈین پروفیسر کیاو گینگ نے کہا مستقبل میں ہم بنیادی نظریاتی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی تعاون کو سمندری معلومات سے متعلق شعبوں اور چین اور پاکستان کے درمیان سمندری ماحولیاتی ڈیٹا کے اشتراک کو فروغ دیں گے

 ہاربن انجینئرنگ یونیورسٹی کے نائب صدر ین جِنگ وی نے کہا ہم سمندر ی معلومات کو صوتی، نظری، برقی اور مقناطیسی ٹیکنالوجیز کے ساتھ انضمام کے ذریعے آگے بڑھائیں گے، جس سے وسیع سمندر کو محفوظ اور قابل کنٹرول بنایا جائے گا، جو مستقبل میں سمندری معلوماتی ٹیکنالوجی کی ترقی کا ایک ناگزیر رجحان ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ چین اور پاکستان آنے والے دنوں میں میرین انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مزید وسیع تعاون کر سکتے ہیں ۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles