En

چین کا توانائی بچاو فارمولا پاکستان میں صنعتوں کی اپ گریڈیشن کو فروغ دے رہا ہے

By Staff Reporter | Gwadar Pro Dec 16, 2021

تیانجن (چائنا اکنامک نیٹ)  حال ہی میں  پاکستان میں ڈی جی خان حب کے 1*30 میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے پاور اسٹیشن کے علاوہ 1*10 میگاواٹ کے ویسٹ ہیٹ کیپٹیو پاور اسٹیشن کے منصوبے میں کوئلے سے چلنے والے یونٹس کا معاہدہ سینوما انرجی کنزرویشن لمیٹڈ سے کیا گیا ۔ 72 گھنٹے کی کارکردگی کا اندازہ آسانی سے پاس کیا اور  منظوری  کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا،  ہمارے تمام منصوبے رواں  سال مکمل ہو گئے ہیں، جو مالکان کو بجلی کی پیداوار بچانے اور پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے براہ راست توانائی کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ یہ بات سینوما انرجی کنزرویشن پاکستان کے سربراہ جی لی   نے چائنا اکنامک نیٹ کو  انٹرویو میں  بتائی۔  
جون 2019 میں  پاکستان کے معروف سیمنٹ پروڈیوسر ڈی جی خان نے انٹیگریٹڈ حب سیمنٹ پلانٹ میں اپ گریڈیشن کے لیے سینوما انرجی کنزرویشن کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے میں 10  میگا واٹ  ویسٹ ہیٹ ریکوری (ڈبلیو ایچ آر) یونٹ اور 30  میگا واٹ  کا کول پاور پلانٹ شامل ہے۔ 
جی کے مطابق  30 میگاواٹ کے کول پاور پلانٹ میں پہلی بار اندرون و بیرون ملک ہائی ٹمپریچر اور انتہائی ہائی پریشر (یو ایچ پی ایچ ٹی) پرائمری ری ہیٹ تھرمل سسٹم لگایا گیا ہے، جو پاور پلانٹ کی مجموعی تھرمل کارکردگی کو بہت بہتر بنائے گا، کوئلے کی  کھپت اور مجموعی پیداواری لاگت کو کم کرے گا۔  
روایتی ہائی ٹمپریچر اور ہائی پریشر سسٹم کے مقابلے میں،  یو ایچ پی  ایچ ٹی سسٹم سے کوئلے کی معیاری کھپت میں تقریباً 10400 ٹن کی کمی متوقع ہے، اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 23700 ٹن کمی  متوقع ہے۔ اس کے علاوہ، منصوبے کی تکمیل کے بعد کل سیمنٹ کی پیداوار میں 18100 ٹن کا اضافہ ہوگا۔ 
 72 گھنٹے کی کارکردگی کے جائزے کے دوران، ہمارے کارکردگی کے اشاریے معاہدے کی ضمانت شدہ اقدار سے بہتر تھے، اور ہمارے اخراج کے اشارے پاکستان کے مقامی اخراج کے معیارات سے کم تھے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے مقامی سیمنٹ انڈسٹری کی توانائی کے تحفظ اور کھپت میں کمی کے لیے بھرپور تعاون کیا ہے۔ 
اس وقت پاکستان کی سیمنٹ انڈسٹری میں نصف سے زیادہ سیمنٹ پلانٹس نے سینوما انرجی کنزرویشن کے فضلے سے  بجلی پیدا کرنے کا نظام اپنایا ہے۔ 
   جی نے کہا اس کے علاوہ، ہم نے فوٹو وولٹکس، بائیو ماس انرجی، ونڈ پاور، ہائیڈرو پاور، اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے سیلف سپلائی پاور پلانٹس میں بھی کافی تفصیلی منصوبہ بندی کی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں، بلاشبہ ہمارے پاس پاکستان میں بڑے صنعتی اور تجارتی اداروں کے ساتھ تعاون کی بہت وسیع گنجائش ہے۔ 
دوسری طرف، سینوما انرجی کنزرویشن کے پاکستان میں اس وقت چار پروجیکٹ ڈیپارٹمنٹ ہیں، جن میں کل 20 مقامی ملازمین ہیں۔
 
 وبا کے دوران ہم نے ملازمین کو توانائی کے تحفظ پر تربیت دینے کے لیے سائٹ پر تربیت اور آن لائن رہنمائی کا ایک مجموعہ اپنایا۔ عام حالات میں، ہم عام طور پر انہیں چین میں ایک سے تین ماہ تک تربیت دینے کا بندوبست کرتے ہیں۔
 

  معلوم ہوا کہ پاکستان میں توانائی کے تحفظ کے پروگراموں نے پراجیکٹ کے مقام کے ارد گرد روزگار کی شرح میں اضافے  کی  بہت   حوصلہ افزائی کی  ہے۔ مستقبل میں توانائی بچاو تعمیر ات    میں چین پاکستان تعاون نہ صرف عالمی کاربن نیوٹرل ہدف میں حصہ ڈالے گا بلکہ مقامی روزگار میں بھی حصہ ڈالے گا۔
 
اب تک ڈی جی خان سیمنٹ کمپنی سینوما انرجی کنزرویشن لمیٹڈ کے ساتھ چار مرتبہ کام کر چکی ہے۔ اور  ایس ای سی  نے پاکستان میں 20 سے زائد منصوبے  تعمیر کیے ہیں۔ 21 ستمبر کو چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین سبز اور کم کاربن توانائی کی ترقی میں دیگر ترقی پذیر ممالک کی حمایت میں اضافہ کرے گا اور بیرون ملک کوئلے سے چلنے والے بجلی کے نئے منصوبے تعمیر نہیں کرے  گا۔
 
شی نے یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس کے عام مباحثے کے دوران ویڈیو کے ذریعے   اپنے بیان میں کیا۔ اس کو دیکھتے ہوئے، کوئلے سے چلنے والے نئے پاور سٹیشنوں کی تعمیر کے بغیر موجودہ فوسل انرجی پاور سٹیشنوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو کیسے بڑھایا جائے، اور ساتھ ہی ساتھ کم کاربن اور ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ مربوط کیا جائے، یہ چین، پاکستان اور دنیا   میں متعلقہ کمپنیوں  کیلئے   اہم مسئلہ ہے  اس پر  گہرائی سے سوچنا چاہیے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles