En

چین اور  پاکستان کے درمیان  عوام سے عوام اور ثقافتی تبادلوں کی ایک طویل تاریخ ہے

By Staff Reporter | Gwadar Pro Dec 14, 2021

بیجنگ  (گوادر پرو)  وادی سوات سمیت  پورے شمالی پاکستان کو چین اور پاکستان کے درمیان دوستی اور ثقافت کی ایک اہم کڑی سمجھا جاتا ہے۔    اعلیٰ سطحی  اکیڈمک  سیمینار گزشتہ ہفتے  آن لائن اور آف لائن دونوں  منعقد ہوا جس میں چین پاکستان ثقافتی اور تاریخی تبادلوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

11 ویں (ہفتہ) چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے سمپوزیم میں پیلگریم ٹو وادی سوات کی تصویری نمائش کا انعقاد کیا  گیا، جس کی میزبانی تشنگھوا یونیورسٹی کے  انٹرنیشنل سینٹر فار کمیونیکیشن اسٹڈیز نے کی اور  اس کا اہتمام تشنگھوا یونیورسٹی کے  پاکستان کلچر اینڈ کمیونیکیشن سینٹر نے کیا۔ دونوں ممالک کے متعلقہ اسکالرز اور دوستانہ لوگوں نے کامیابی کے ساتھ اس کا آغاز کیا۔
تقریب سے قبل چین میں پاکستانی سفارتخانے کے نمائندوں اور متعلقہ سکالرز نے اس نمائش کا دورہ کیا جس میں تشنگھواا یونیورسٹی کے پروفیسر لی  شی گوانگ کی طرف سے عدنان اورنگزیب  کے مقدس مقامات  کے سفرکی دستاویزی تصاویر موجود تھیں۔
والی سوات    عدنان، سوات  کے  سابق رکن پارلیمنٹ، پاکستان کے سابق صدر ایوب خان کے پوتے نے بھی آن لائن کانفرنس میں شرکت کی اور پاک چین دوستی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر تاریخ کو  دہرایا    اور اس موقع پر جنیسس آف چین-پاک ریلیشنز 1949-1969 کے موضوع پر  خطاب  کیا۔
لی  شی گوانگ کے حکم کے مطابق وبائی بیماری کے پھیلنے سے پہلے  میں اور عدنان ہر سال انٹرویو لینے اور قدیم چینی ادب میں درج قدیم مذہبی عمارتوں کا معائنہ کر نے کیلئے  وادی سوات جاتے تھے۔ انہوں نے کہا  چین اور پاکستان دونوں کی شاندار اور  قابل قدرثقافتیں ہزاروں سال بعد بھی اس خطے میں پروان چڑھ رہی ہیں۔
 تشنگھوا یونیورسٹی کے نائب صدر پینگ گینگ نے افتتاحی تقریب میں کہا پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تبادلوں کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں اور یہ سفارتی تعلقات کے رسمی قیام سے بہت آگے ہیں۔ 2,000 سال پہلے، شاہراہ ریشم ہماری دو قدیم تہذیبوں کو جوڑنے والا دوستی کا پل بن گیا ہے۔
چین میں پاکستانی سفیر معین الحق نے   افتتاحی تقریب سے خطاب کی کرتے ہوئے  کہا کہ  پاکستان اور چین نوجوان ریاستیں ہیں جن کی تہذیب کی گہری جڑیں ہیں اور کئی ہزار سال پر محیط باہمی طور پر افزودہ تعامل کی تاریخ ہے۔ لہٰذا دونوں ممالک کے درمیان اس بے مثال تعلقات کا بیج سات دہائیوں کے اواخر میں ہی نہیں بلکہ کئی صدیاں پہلے ہی قائم ہوا۔ پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تبادلوں میں حالیہ برسوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ لہذا، ہم اس صحت مند رفتار کو برقرار رکھنے اور اپنے طلباء، فنکاروں، دانشوروں اور ماہرین تعلیم کے درمیان مزید تبادلوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پرعزم ہیں۔
پاکستان میں چین کے سابق سفیر چانگ چون شیانگ نے قراقرم ہائی وے اور شمالی پاکستان کے پہاڑوں کے ساتھ اپنی کہانی بھی دہرائی۔
اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے 28 اسکالرز جنہوں نے چین پاکستان ثقافتی اور تاریخی تبادلوں کا مطالعہ کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے، نے دو روزہ کانفرنس کے دوران اکیڈمک  رپورٹس پیش کیں۔ اکیڈمک رپورٹس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں چین پاکستان عوام سے عوام کے تبادلے کی تاریخ اور اہمیت، اڈیانہ ویلی آرٹس اینڈ کلچر اسٹڈیز اور سی پیک اور بی آر آئی کے تحت ثقافتی تبادلے شامل ہیں۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles