کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا 90 فیصد سے ز ائد کام مکمل ہو گیا
اسلام آباد (گودر پرو)کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سال 2022 کی پہلی ششماہی تک اپنا کمرشل آپریشن شروع کر دے گا۔چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) اتھارٹی ذرائع کے مطابق منصوبے کا تقریباً 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
حال ہی میں کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جو کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت ایک بڑا منصوبہ ہے نے کامیابی کے ساتھ ڈائیورژن ٹنل کے دروازے بند کر دیے ہیں، جس سے پانی کا ذخیرہ شروع ہو گیا ہے۔
اس منصوبے پر چائنا تھری گورجز کارپوریشن (سی ٹی گی) نے تقریباً 1.74 بلین ڈالر کی کل سرمایہ کاری کی ہے۔ صوبہ پنجاب میں کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دریائے جہلم پر بنائے گئے پانچ جھرنے والے ہائیڈرو پاور سٹیشنوں میں چوتھے درجے کا ہے۔ سی پیک کے پہلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ریزروائر پر تحدید کا آغاز ایک سنگ میل ہے اور یہ جنریٹر یونٹس کے ویٹ ٹیسٹنگ کی راہ ہموار کرے گا۔
اپریل 2015 میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد سے اس منصوبے پر کام کرنے والے چینی اور پاکستانی انجینئر ز اور کارکنوں نے مشترکہ طور پر مختلف چیلنجوں پر قابو پا لیا ہے جن میں کووڈ -19 وبا بھی شامل ہے، اس طرح کامیابیوں کا ایک سلسلہ بھی بنایا گیا ہے جیسا کہ دریا کی بندش اور پہلے روٹر کو اٹھانا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آبی ذخائر کا آغاز پاکستانی اور چینی کارکنوں کے باہمی تعاون سے محنت کا نتیجہ ہے۔
ہائیڈرو پاور سٹیشن پراجیکٹ کا آئندہ کمرشل آپریشنملک کے توانائی کے ڈھانچے کو بہتر بنائے گا،پاکستان میں سستی اور صاف توانائی کے ساتھ بجلی کی قلت کے مسائل کو مزید حل کرے گا، اس پرا جیکٹ نے مقامی لوگوں کے لیے 4,000 سے زائد ملازمتیں فراہم کی ہیں۔


