En

مزید  چینی ٹریڈشنل ادویات  پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے تیار

By Staff Reporter | Gwadar Pro Sep 2, 2021

 بیجنگ :ہم پاکستان میں لیانہوا کنگ وین کیپسول/گرینول (ایک چینی دوا جو ناول کورونا وائرس نمونیا کے علاج کے لیے موزوں ہے) رجسٹر کر رہے ہیں، ہمیں  امید  ہے  کہ رواں  سال کے آخر تک اس کی منظوری مل جائے گی۔ یہ  بات   یولنگ دواساز کمپنی  کے ڈپٹی جنرل منیجر چانگ یولنگ نے ایک خصوصی انٹرویو میں چائنا اکنامک نیٹ کو بتا ئی ۔حال ہی میں کمپنی نے ننگزیا تائجی یانگزی ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی  جو ہیلتھ ٹیکنالوجی ریسرچ اور پروموشن ، بوڑھوں کی دیکھ بھال ، ہیلتھ پروڈکٹ کی پیداوار اور فروخت میں مصروف ایک پیشہ ور انٹرپرائز ہے  کے تعاون سے ''بیلٹ اینڈ روڈ''  ٹریڈیشنل  چائنیز میڈیسن  ڈسٹریبیوشن  سنٹر  کے قیام کے لیے اسٹریٹجک تعاون کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں ۔ یہ مرکز، ایک بار قائم ہونے کے بعدسانس کی  بیماری   کے علاج کے لیے  ''تخلیقی'' چینی ادویات (روایتی مواد اور جدید ٹیکنالوجیز سے تیار کی جانے والی ادویات) اور  روایتی چینی ادویات فراہم کرے گا جو کہ  یولنگ  دواساز کمپنی نے ''بیلٹ اینڈ روڈ'' ممالک کیلئے تیار کی ہیں۔ مثالی دوا Lianhua Qingwen کیپسول، پلمونری انفیکشن کو کنٹرول کرنے اور سردی کی علامات کو ختم کرنے میں موثر  ثابت ہونے کے ساتھ چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے بیرون ملک مقیم چینی طلباء کو تحفے میں دی گئی ''ہیلتھ کٹ'' میں واحد دوا ہے۔ یہ دنیا کی پہلی کمپاؤنڈ چینی دوا ہے جسے امریکی ایف ڈی اے نے کلینیکل سٹڈیز کے لیے منظور کیا ہے۔ وبائی بیماری کے پھیلنے کے بعد سے، لیانہوا چنگ وین کیپسول رجسٹرڈ اور تقریبا   30 ممالک اور علاقوں میں برآمد کیا گیا ہے، جس میں کینیڈا، روس، سنگاپور، فلپائن وغیرہ شامل ہیں، خاص طور پر یہ تھائی لینڈ، انڈونیشیا، منگولیا ، کویت، ازبکستان  وغیرہ میں کوویڈ 19 کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔کمبوڈین حکومت نے ہلکی علامات والے کوویڈ 19 مریضوں کے  علاج میں شامل کیا ہے۔ وسیع تر رجسٹریشن کے علاوہ  مزید چینی دواؤں کے مواد کی کھوج اور تعارف کرایا جائے گا، تحقیقی تعاون کو آسان بنایا جائے گا، طبی تربیت فراہم کی جائے گی، اور بی آر آئی ممالک میں دواؤں کے ثقافتی تبادلے منعقد کیے جائیں گے۔  پاکستان میں  ہمیں ایک مختلف ثقافت اور دواؤں کے اندراج کے ضوابط کے ایک مختلف نظام کا سامنا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق سائنسی طریقوں کے ساتھ ٹریڈشنل چینی ادویات کے اثر کو ظاہر کرنے سے  زیادہ ممالک کے لوگ اس کی طاقت کو پہچاننے لگیں گے۔ ''ٹریڈشنل چینی ادویات '' میں لفظ ''ٹریڈشنل'' اس کی طویل تاریخ اور صدیوں میں بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول میں متاثر کن کردار پر مشتمل ہے۔ اب معاصر دنیا میں اس کے روایتی عناصر کو اضافی معنی سے نوازا گیا ہے۔ جیسا کہ عرب چین تعاون اور ترقی ایسوسی ایشن (اے سی سی ڈی اے) کے صدر  قاسم طفیلی  نے کہا روایتی چینی دوا  فیشن سے باہر نہیں ہے۔ یہ اب بھی جدید دنیا میں  جانی جاتی ہے  ۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسے صرف ''چینی دوا'' کہنا پسند کرتا ہوں۔ منیجر ژانگ کے مطابق  روایتی چینی دوا میں مجسم سائنسی عناصر کو ظاہر کرنے کی انتہا ثبوت پر مبنی تحقیق پر منحصر ہے، جو بین الاقوامی  میڈیکل کمیونٹی   میں علاج معالجے کی تشخیص کا اچھا معیار بھی ہے۔ پچھلے سال مارچ میں  لیانہوا کنگ وین ادویات کی شواہد پر مبنی طبی تحقیق پر ایک مقالہ فارماسولوجیکل ریسرچ پر شائع ہوا، جو فارماکولوجی کے ایک بڑے جریدے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دوا کی اینٹی ناول کورونا وائرس کی نقل و حرکت اور میزبان خلیوں کی سوزش کے عوامل  کو روک کر ثابت کیا گیا ہے، یہ COVIDـ19 کے علاج میں لیانہوا چنگ وین کے استعمال کی تجرباتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles