En

چین کا پاکستان میں چارے کی قلت کو موثر طریقے سے دور کرنے کے لیے  تعاون،رپورٹ

By Staff Reporter | Gwadar Pro Aug 30, 2021

بیجنگ : مکئی کے سائلیج کو''چارے کا بادشاہ'' کہا جاتا ہے، یہ مکئی کے پورے پودوں سے بنایا جاتا ہے۔ ''سائلیج مکئی کے  چار ے کی پیداوار زیادہ، قیمت کم، غذائیت سے بھرپور ، پیداوار کیلئے کم  جگہ  اور اسے طویل عرصے تک محفوظ کیا جاسکتا ہے، اور  سارا سال  فراہم کیا جاتا ہے یہ  سبز خام فیڈ کی ضروریات کو پورا کرنے کا سب سے موثر طریقہ ہے ۔ گوادر پرو کے مطابق چائنا سیڈ ایسوسی ایشن سلیج برانچ کے صدر ڈاکٹر  چنگ گوانگ لی  نے کہا  ہے کہ اس شعبے میں پاک چین تعاون پاکستان میں   چارے کی کمی اور ترقی میں رکاوٹ کو مؤثر طریقے سے دور کرے گا۔ اناج والی  مکئی    اور گھاس کے مقابلے میں  سائلیج مکئی کے بہت سے فوائد ہیں جیسے دودھ  والے مویشیوں،  گوشت  والے  مویشیوں اور بھیڑوں کی خوراک۔ اس کی پہلی خصوصیت زیادہ پیداوار ہے، ''سائلیج مکئی کی فصل کا انڈیکس 0.9 تھا، جبکہ اناج  والی  مکئی کا 0.45 تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی علاقے  میں سائلیج مکئی کی پیداوار اناج  والی  مکئی سے دوگنا زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ  مکئی کے  سائلی   کو اس کی اعلی غذائیت کی وجہ سے بھی سراہا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا عام چارہ کیلوری میں کم اور غذائیت میں واحد ہے، جبکہ سلیج کارن نشاستے، پروٹین اور اعلی معیار کے فائبر سے مالا مال ہے۔ اس وقت چین میں بڑے پیمانے پر مویشیوں کے باڑے والے   بنیادی طور پر   اسے مویشیوں کی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ دراصل  2015 سے پہلے یہاں کچھ فارم تھے، لیکن حالیہ برسوں میں  جیسے جیسے سائلیج کارن کو تیزی سے متعارف کرایا اور مقبول کیا گیا، ملک بھر میں ڈیری کی پیداوار بھی آسمان کو چھو گئی۔ ہر دودھ دینے والے مویشیوں کو روزانہ تقریبا  25 کلو سائیلج کارن چارہ کھلایا جانا چاہیے۔ ہر 0.2 ہیکٹر سائلیج کارن  ایک دودھ دینے والے جانور  کو کھیلایا جا سکتا ہے    0.13 ہیکٹر ایک گوشت والے جانور کو ، اور 0.03 ہیکٹر ایک  گوشت والی  بھیڑ کو چارہ  کھیلا سکتے ہیں ۔ڈاکٹر چنگ نے کہا غذائیت، پائیداری اور پیداوار پر اس کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے  اسے مویشیوں اور بھیڑوں کی خوراک کے طور پر استعمال کرنے سے  جانوروں کے پالنے کے اخراجات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے اور پاکستان میں فیڈ کی اونچی قیمتوں کو کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ مویشیوں کی صنعت کو بہتر معیار کی مصنوعات تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مزید یہ کہ سائلیج کارن ماحولیاتی تحفظ میں بھی بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ چراگاہ کو تبدیل کرنے کے لیے اس کا استعمال گھاس کے میدان کی حفاظت کر سکتا ہے اور ماحولیاتی   نقصان  سے بچ سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، چین میں سائلیج مکئی  کو  تیزی سے فروغ ملا  ہے، اور آہستہ آہستہ مغربی دنیا کی سطح کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ڈاکٹر چنگ  نے بتایا  کہ  2015   سے  چین نے چارے کے مرکب میں اصلاح کے لیے سازگار پالیسیوں کا ایک گروپ متعارف کرایا۔ 2016 میں  چین میں سائلیج مکئی کی کاشت  کا رقبہ  1.04 ملین ہیکٹر تھا، لیکن 2021 میں  اعداد و شمار 2 ملین ہیکٹر سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا شمال مشرقی چین کے ہوانگ ہوائی علاقہ اور شمال مغربی چین میں سائلیج مکئی کے تین اہم پیداواری علاقے ہیں۔ چونکہ ان تینوں پیداواری علاقوں کی آب و ہوا اور مٹی مختلف ہے، تیار شدہ مصنوعات کی پیداوار میں بھی نسبتا  بڑا فرق پڑے گا۔ ہوانگ ہوائی خطے میں  پیداوار تقریبا  45 ٹن فی ہیکٹر ہے، جبکہ شمال مغربی چین میں، جہاں آب و ہوا پاکستان کی طرح ہے، پیداوار 105 سے 120 ٹن فی ہیکٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ ڈاکٹر  چنگ  نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں سائلیج کارن چارہ تیار کرنے کی بہت  صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان سورج کی  روشنی اور حرارت کے وسائل سے مالا مال ہے اور اس میں سبز مکئی لگانے کے لیے قدرتی  ماحول   ہے ۔ ایک ہی وقت میں سائلج مکئی  کی کاشت  کا رقبہ   اناج  والی  مکئی کے مقابلے میں  8.2 فیصد ہے، اس لیے اس فیلڈ میں اس کا کافی تجربہ ہے، جس نے سائلیج مکئی  کی کاشت  کی  ٹھوس بنیاد رکھی ہے۔ چین اور پاکستان   اقسام  کی افزائش، مکینیکل آلات اور پروسیسنگ ٹیکنالوجی میں تعاون کر سکتے ہیں۔ چین پاکستان میں اعلیٰ قسم کے بیجوں کو   ٹیسٹ کے لیے لانے کے لیے تیار ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سے علاقے کاشت کے لیے موزوں ہیں اور کون سی اقسام وہاں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مقبول ہونے کے بعد چین پاکستان کی پروسیسنگ اور اسٹوریج کی ترقی، پوری صنعتی  چین  کھولنے اور مکئی  کی کاشت  اور مویشیوں کی افزائش کے امتزاج کو سمجھ سکتا ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles