En

پاک چین تجارتی تعلقات کے فروغ کی کوششیں ایک دوسرے کیلئے معاون  ثابت ہو نگی ,وانگ زیہائی

By Staff Reporter | Gwadar Pro Aug 7, 2021

اسلام آباد : پاک چین اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں مسلسل بہتری  سے دونوں ممالک کے  درمیان  استعداد  کا تعاون   باہمی  فوائد کے حصول کیلئے  اہم ذریعہ بن گیا ہے۔گوادر پرو کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے جو سال -2005  2004 میں 4 بلین ڈالر تھا اب   حالیہ برسوں میں بڑھ کر  20 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چائنا کسٹمز کے مطابق 2021 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی چین  کو   برآمدات 1.73 بلین ڈالر تھیں جو کہ   2020  کی پہلی ششماہی  کے  مقابلے میں 84 فیصد زیادہ  ہے  ۔  یہ چین پاکستان  ٹریڈ انویسٹمنٹ  اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی شرح   نمو   اور تجارت اور رسد میں فوائد  کو ظاہر کرتی ہے۔  پاکستان چائنا سینٹر (پی سی سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر وانگ زیہائی جنہیں حال ہی میں پاکستانی سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) نے   انویسٹمنٹ  قو نسلر (ایچ آئی سی)   مقرر کیا  ، نے گوادر پرو کو  انٹرویو میں کہا کہ مرکز اس پلیٹ فارم کو  سرمایہ جمع کرنے ،  ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے  ، ہائی ٹیک انڈسٹریز اور لوگوں سے لوگوں کے تبادلے کو فروغ د  ینے پر توجہ دے رہا ہے ۔ اگلے مرحلے میں  ہم پاکستان کی صنعتی اقسام کو ترتیب دیں گے اور چین کی متعلقہ صنعتوں کے ساتھ تکمیل کے لیے  مواقع  تلاش کریں گے  تاکہ پاکستان کی  مستحکم تکمیل کے لیے چین کی صلاحیتوں  کی حوصلہ افزائی ہو۔پاک چین تجارت کو درپیش چیلنجز اور اس کے امکانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے  وانگ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگرچہ تجارت کا حجم ہر سال بڑھ رہا ہے، جو نسلوں اور دونوں ممالک کی آبادی کے لیے دوستانہ ہے  لیکن    سیاسی صورتحال کے مقابلے میں کل حجم ابھی تک ناکافی ہے ۔پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی خسارہ ہے،  جو طویل عرصے میں تجارت کی متوازن ترقی کو متاثر کرے گا ۔ لیکن ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ سی پی ایف ٹی اے فیز II بہت بڑے فوائد  لایا آیا ہے اور اگر ہم جدید تجارتی ماڈل پر کام کرتے ہیں تو امید ہے کہ خسارے کو جلد پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت نیا ماڈل اور نئی کاروباری قسم ایک کے بعد ایک سامنے آ رہی ہے۔ سرحد پار ای کامرس زوروں پر ہے اور بارٹر ٹریڈ بھی ابتدائی  ریسرچ میں ہے۔ چین پاکستان تعاون کو وقت کے مطابق رکھنے کی ضرورت ہے۔ زیر تعمیر چین پاکستان اقتصادی راہداری چین پاکستان تجارت کو بڑھانے   اور متعلقہ مارکیٹ کے مواقع فراہم کرتی ہے۔  وانگ نے بتایا کہ حال ہی میں متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر  پی سی سی نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئی کاروباری اقسام  کے بارے سیکھنے کے لیے سرحد پار ای کامرس ڈویلپمنٹ اسٹریٹیجی ورکشاپ کا آغاز کیا ہے۔ انہیں  2005 سے  اب تک پاکستان میں رہتے ہوئے16   سال   ہو گئے  ہیں۔ اس عرصے کے دوران  وہ صنعت،  سروسز، سرمایہ کاری خوردہ فروشی میں مصروف رہے ہیں، اور چیمبرز آف کامرس اینڈ ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے جس میں  سی پیک کے تحت نو خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کو تیز کرنا بھی شامل ہے۔ چینی کمپنیاں پاکستانی کاروباری اداروں کے ساتھ ٹائر، کاریں، ٹرک، ٹیکسٹائل وغیرہ کی تیاری میں مشترکہ منصوبے قائم کرنے پر غور کر سکتی ہیں۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles