En

سی پیک ،قابل تجدید توانائی تعاون پاک چین دوستی کا نیا نمونہ قرار

By Staff Reporter | Gwadar Pro Aug 3, 2021

بیجنگ : سی پیک  کے تحت قابل تجدید توانائی تعاون کو  پاک چین دوستی کا نیا نمونہ قرار دیدیا گیا   ہے  ۔گوادر پرو  کے مطابق   2020 میں سی پیک کے تحت قابل تجدید توانائی کے منصوبے کوویڈ 19    کی وجہ سے  سست نہیں  ہو ئے ۔ چین کے ہر پروجیکٹ گروپ نے مقامی ملازمین کے ساتھ مل کر کام کیا ہے تاکہ پاکستان کی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان میں قابل تجدید توانائی، ہائیڈرو پاور، ونڈ انرجی اور فوٹو وولٹک پاور کی بہت بڑی صلاحیت ہے۔ چین کی قابل تجدید توانائی پر 2020 کی بین الاقوامی تعاون کی رپورٹ کے مطابق چین پاکستان کی توانائی میں   مدد جاری رکھے گا۔ یہ رپورٹ   30 جولائی کو چائنا  رینیوایبل انرجی (قابل تجدید توانائی)  انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ (CREEI) اور انٹرنیشنل انرجی انفارمیشن پلیٹ فارم (IEIP) نے مشترکہ طور پر شائع  کی ۔چینی سوسائٹی فار ہائیڈرو پاور انجینئرنگ (CSHE)، گلوبل ونڈ انرجی کونسل (GWEC) اور چائنا فوٹو وولٹک انڈسٹری ایسوسی ایشن (CPIA) کے ماہرین اور اسکالرز  سمیت 538 افراد  نے    کانفرنس میں شرکت کی۔  چائنا  رینیوایبل انرجی (قابل تجدید توانائی)  انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ کے ترجمان چاؤ شیچون نے کانفرنس میں کہا یہ تمام ممالک کا مشترکہ اتفاق اور   عمل بن گیا ہے کہ عالمی توانائی کو تیز کیا جا سکے اور سبز اور کم کاربن کی ترقی کو فروغ دیا جا ئے ۔ 2020 میں  کوویڈ 19 وبائی بیماری نے دنیا کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے معیشت عالمی سطح پر  بہت کساد بازاری  کا شکار  ہے۔ تاہم،  گزشتہ  سال گلوبل قابل تجدید توانائی اس رجحان کے خلاف بڑھ رہی ہے۔ لہذا قابل تجدید توانائی کی ترقی کو تیز کرنا  تمام ممالک کیلئے  کوویڈ 19 کے بحران سے نمٹنے اور سبز بحالی کے حصول کے لیے ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔  ہائیڈرو پاور  اب بھی چین پاکستان قابل تجدید توانائی تعاون میں ایک بڑی طاقت ہے۔چائنا  رینیوایبل انرجی (قابل تجدید توانائی)  انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ   سی پیک انرجی پلاننگ ایکسپرٹ گروپ کا ایک اہم رکن ہے اور اس نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کارپوریشن (NTDC) کے ساتھ جوائنٹ سٹڈی  کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق  CREEI نے تجزیہ کیا  کہ پاکستان پن بجلی کے وسائل سے مالا مال ہے اور اس میں تقریبا 40  GW  قابل استفادہ ٹیکنالوجی ہے۔ اب تک پاکستان میں تقریبا 10  GW نصب شدہ پن بجلی کی صلاحیت تیار کی گئی ہے اور استعمال کی شرح 25 فی صد تک پہنچ چکی ہے، اب بھی ایک بہت بڑی صلاحیت باقی ہے۔   سی پیک کے تحت توانائی کے تعاون کو فروغ  دینے  کے ساتھ  پاکستان میں بجلی کی فراہمی کی قلت سال بہ سال کم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں توانائی کی تبدیلی کی مسلسل پیش رفت کے ساتھ، پن بجلی، قابل تجدید توانائی کے ڈھانچے کی بڑی قوت کے طور پر چین اور پاکستان کے پاس اس شعبے میں تعاون کے لیے وسیع  مواقع ہیں   ۔ اس کے علاوہ  پاکستان چین کے بین الاقوامی  ونڈ پاور  تعاون کے لیے بھی ایک اہم ملک ہے۔ لبرٹی 1 اور لبرٹی 2 50 میگاواٹ کے  ونڈ پاور پراجیکٹ پر  2020 میں دستخط کیے گئے اور پاور چائنا، گل احمد، ایکٹیل، آرٹیکٹک ونڈ پاور پراجیکٹس اور گولڈ ونڈ گروپ کے معاہدہ کردہ ایکٹ II پروجیکٹ کو کلیدی کیس کے طور پر پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں 2020 میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پاکستان اور چین کے درمیان اہم سرگرمیوں اور اتفاق رائے کا بھی ذکر ہے۔ 25 مارچ 2020 کو سی پیک  انرجی کوآپریشن ورکنگ گروپ نے ویڈیو کے ذریعے اپنی آٹھویں میٹنگ کی اور متعلقہ لے آؤٹ، حالات اور سی پیک کے تحت قابل تجدید توانائی  پر  تبادلہ خیال کیا۔    21 ستمبر 2020 کو چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن اور پاکستان کی وزارت توانائی نے چین پاکستان اقتصادی راہداری انرجی پراجیکٹ لسٹ (2020) کی ایڈجسٹمنٹ کے معاہدے پر دستخط کیے جس میں دونوں  نے  ایڈجسٹمنٹ کے اصولوں اور فہرست پر  اتفاق  کیا ۔ چاؤ نے کانفرنس میں کہا وبا کے سخت امتحان کے باوجود سی پیک  کے تحت توانائی تعاون کے منصوبے اب بھی مستحکم پیش رفت کر رہے ہیں، دو طرفہ تعاون کے لیے ایک پل کی تعمیر اور قابل تجدید توانائی میں تعاون نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان گہری دوستی کے حوالے سے چین پاکستان کی توانائی کی تبدیلی میں مدد جاری رکھے گا تاکہ آ ئنہ  بھائی مل کر پائیدار ترقی کے ہدف کو پورا کر سکیں۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles