En

چین اور  پاکستان کا  علاقائی ترقی، امن اور سلامتی کے لیے سی پیک کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور

By Staff Reporter | Gwadar Pro Aug 1, 2021

 اسلام آباد : امریکہ کے  انڈو پیسفک (کواڈ) معاہدہ اور چین  کو روکنے کیلئے  بی آر آئی کے خلاف  امریکی   پالیسی  ، علاقائی ترقی ، امن  وتحفظ کیلئے  سی پیک کی سٹرٹیجک اہمیت پرگولڈن رنگ اکنامک فورم (جی آر ای ایف) کے تعاون سے    ایک ویڈیو اجلاس منعقد کیا گیا۔ اتوار کو گوادر پرو کے مطابق  پاکستان اور چین کے پینلسٹس نے علاقائی سلامتی کے منظر نامے، چین پر پابندیو ں  کی پالیسیوں، بی آر آئی اور سی پیک کو درپیش    خطر ات پر بحث کی  اور کچھ تجاویز پیش کیں کہ دونوں فریق مشترکہ طور پر ان سب کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ گوادر بندرگاہ چین، ایران اور روس کے لیے بحر ہند  تک جانے کا    واحد مختصر ترین  راستہ ہے، جو پاکستان کو پورے خطے میں ایک انتہائی اسٹریٹجک اور اہم کھلاڑی بناتا ہے۔ جی آر ای  ایف  کے صدر حسنین رضا مرزا نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں خاص طور پر چینیوں کے خلاف اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان اور چین کو مشترکہ طور پر اپنے آپ کو بچانے، بی آر آئی اور سی پیک کو محفوظ رکھنے اور گوادر بندرگاہ کو فعال رکھنے کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ چیئرمین   جی آر ای  ایف  لیفٹیننٹ جنرل(ر) سکندر افضل  ایچ آئی (M)  نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ  سی پیک  سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو کئی شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، یعنی ماضی میں جن علاقوں کو نظر انداز کیا گیا  وہاں پر  ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے انسانی وسائل کی ترقی  ، محرومیوں کو دور کرنا، روزگار  دینا اور دہشت گردی   اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی زراعت میں اصلاحات کرنا وغیرہ شامل  ہیں ۔ نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی چین پاکستان کمیونٹی کی تعمیر کے لیے پاکستان کی جیو اکنامک پوٹینشل کو سامنے لانے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے    بی آر آئی انٹرنیشنل تھنک ٹینک اور آر ڈی آئی کی مشاورتی کمیٹی  کی  چیئر پرسن  ڈاکٹر  چاؤ بیگے (ایچ آئی) نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کا امن اور استحکام علاقائی اقتصادی ترقی، رابطے، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی  کی خوشحالی اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس کے لیے عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے، خاص طور پر علاقائی ممالک اور پاکستان، ایک اہم  ملک کے طور پر  اس عمل میں کلیدی کردار ادا کر یں گے ۔ ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز  پروفیسر ڈاکٹر وانگ  ایوی   نے اس بات پر زور دیا کہ جی 7 ممالک نے بی آر آئی کو نقل کرنے کے لیے بی 3 ڈبلیو کی تجویز پیش کی، جس نے  ایک بار پھر بی آر آئی کی کامیابی کو ثابت کیا۔  جی 7 ممالک کے لیے بہت ساری سیاسی اور بہت اہم مالیاتی رکاوٹیں ہیں   جس کی وجہ سے   اس طرح کے منصوبے کو نقل کرنا مشکل ہوگا۔خاص طور پر آج کے ڈیجیٹل دور میں دنیا بھر کے ممالک مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی ہیں ۔ ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ وائس ایڈمرل وسیم اکرم (ر) نے گوادر بندرگاہ سے سنکیانگ چین تک براہ راست تیل اور گیس   لائن  کی تجویز دی جو دونوں ممالک کی بڑی مدد کرے گی۔ سنکیانگ اور گوادر بندرگاہ کے درمیان ایک ریلوے نیٹ ورک کو بھی ترجیحی بنیادوں پر تیار کیا جانا ہے کیونکہ اس وقت پاکستان اسے چین کے ریل نیٹ ورک سے جوڑ سکتا ہے جو یورپ اور دوسری جگہوں پر جا رہا ہے۔بیجنگ اسکائی سنچری آئی ٹی کمپنی کے چیئرمین اور سی ای او  چن جیان  چنگ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی تعاون کو اعلیٰ سطح کے تعاون کے ڈھانچے میں اچھا کام کر نا چاہئے اور چین پاکستان  کے   اعلیٰ  سطح  کے   سٹرکچر اور علاقائی اقتصادی تعاون  اسٹریٹجک جد و جہد  اور اپنے وسائل کے فوائد کو بہتر بنانا چاہیے۔   ہمیں مختلف صنعتوں میں نمایاں  اقدارکے ساتھ بڑے پیمانے پر منصوبوں کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے، بڑی تعداد میں چھوٹے منصوبوں کو ضم کرنا چاہیے  جنہیں  بڑے پیمانے پر موثر بنانا مشکل ہے، اور تعاون کے لیے کئی بڑے پیمانے پر منصوبوں کا آغاز کرنا چاہیے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles