En

پاکستان چین کی کاربن کے صفر اخراج کی کامیابی سے سیکھ سکتا ہے، وانگ سیانگ پنگ

By Staff Reporter | Gwadar Pro Jul 4, 2021

بیجنگ: چین نے تیانجن میں واقع ایک انٹیگریٹڈ گیسیفیکیشن کمبائنڈ سائیکل (IGCC) پاور اسٹیشن سمیت  گرین کول پاور کی آزادانہ طور پر تحقیق  اور تعمیر کی ہے   ۔ گوادر پرو کی رپورٹ کے مطابق مشکل ہونے  وجہ سے   صرف چند مغربی ممالک نے  ہی آئی جی سی سی تیار  کیا  ہے ۔تیانجن آئی جی سی سی پروجیکٹ کے نائب صدر وانگ سیانگ پنگ نے کہا ہے کہ  ہم آہستہ آہستہ اس پروجیکٹ کو مکمل کررہے ہیں ، ہم اپنے تحقیقاتی نتائج ،  ٹیکنالوجی  اور آلات  اپنے آ ہنی  بھائی کے ساتھ  شیئر کرنا  پسند کریں گے ۔  تیانجن آئی جی سی سی ، چا ئنہ  ہواینگ گروپ (سی ایچ این جی)  کا تعمیر کردہ ایک  کلین انرجی پاور   جنریشن  کا  پروجیکٹ ہے  ، جس کا آغاز 2005 میں کیا گیا تھا اور اسے 6 نومبر 2012  فعال  کیاگیا تھا۔ آئی جی سی سی جدید ٹیکنالوجی ہے  اور صرف چند مغربی ممالک نے اس بارے سوچا    اور اسے خفیہ رکھا ہے۔ لہذا  سی ایچ این جی  نے اسے آزادانہ طور پر تیار کیا ہے اور اب ہم نے پہلے ہی ٹیکنالوجی میں  پوری   مہارت حاصل کرلی ہے۔تیانجن آئی جی سی سی پاور اسٹیشن کو نومبر 2012 میں  فعال کیا گیا تھا۔ 265000 کلو واٹ کی نصب شدہ گنجائش کے ساتھ یہ  ماحول دوست   کوئلہ سے چلنے والا ایک بجلی گھر ہے جس  کے  دو مراحل   ایک پریشر کے زریعے  خشک کوئلے کو گیس  میں تبدیل کیا گیا  ہے  اور دوسرا   کافی جدید ترین ٹیکنالوجی  اپنائی  گئی  ہے۔ آلات اور ٹیکنالوجی  کے ذریعہ ، کوئلے کو جلانے سے پیدا ہونے والی فضلہ گیس کو فلٹر کیا جاتا ہے اور ان کو اعلی میعار کی  کاربن ڈائی آکسائیڈ میں صاف کیا جاتا ہے ، جس کے بعد اسے صنعتی خام مال کے طور پر  اکٹھا   اور محفوظ کیا جاتا ہے۔  سی  ایچ این جی کا تیانجن   آ ئی جی سی سی پروجیکٹ  مکمل  ہوتا رہا ہے اور اس نے اس ٹیکنالوجی کا ایک نیا مرحلہ حاصل کیا ہے۔ 2018 میں یہ پروجیکٹ مسلسل 166 دن تک  چلتا رہا ، جس نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا ، اور 2020 میں  یہ  پہلی بارسارا سال  نان اسٹاپ رہا۔ ایک ہی وقت میں   بہتر ٹیکنالوجی اور آلات کے ذریعہ ، بجلی کی پیداوار ی لاگت کو بہت کم کیا گیا ہے۔ وانگ نے یہ بھی اشارہ کیا کہ پاکستان میں انکے  منصوبے  ساہیوال پاور اسٹیشن پر غورکیا جا رہا ہے  اور چین میں ان کی نئی کامیا  بی سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں   انتہائی کم حتیٰ کہ کاربن کے صفر اخراج کو بھی حاصل کرنا ممکن ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles