چین اور پاکستان سی پیک کے تحت مینگروز کے تحفظ کے لئے کام کریں گے
اسلام آباد : ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سندھ اور بلوچستان کے ریجنل ہیڈ ڈاکٹر طاہر رشید نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کیلئے سی پیک کے تحت گوادر کے ساتھ ساتھ مینگروز کے تحفظ کے لئے کام کرنے کی بہت گنجائش ہے،گوادر کے نواح میں ایسے علاقے ہیں جہاں مینگروز کے درخت لگائے گئے ہیں ، ہم نہ صرف چین کے ساتھ ملکر ان پہلے سے لگائے گئے مینگروز کے تحفظ بلکہ مینگروز کی بحالی کے لئے بھی کام کرسکتے ہیں۔ چینی تحقیق کی مدد سے ہم اپنے سمندری ماحول کو بھی بہتر بناسکتے ہیں،ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے تین دہائیوں سے مینگروو کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا اس میں سب سے بڑی پیشرفت مقامی لوگوں کی مصروفیت ہے ، جو ڈبلیو ڈبلیو ایف اور محکمہ جنگلات کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ہم مینگرووز کے تحفظ اور بحالی کو بہتر طریقے سے فروغ دے سکیں۔ ڈاکٹر طاہر کے مطابق چین نے حالیہ برسوں میں مینگروو پر بہت زیادہ کام کیا ہے ، 52 قدرتی ذخائر ہیں جہاں ملک بھر میں مینگروو تقسیم کیے جاتے ہیں۔ چین کے ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے علاقوں میں پچھلے 20 سالوں میں 7000 ہیکٹر رقبے میں اضافہ ہوا ہے ، یہ مینگروو کے رقبے میں خالص اضافہ کے ساتھ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر رشید نے کہا جیسا کہ اس سال جلد پاکستان عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی کرنے والا ہے ، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان محکمہ جنگلات کے ساتھ ملکر مینگرووز کے حوالے سے مختلف تقاریب کا انعقاد کرے گا،ہم عوام کو مینگروو کی ا ہمیت سے آگاہ کریں گے اور ان کو بچانے اور ان کے تحفظ کے بارے میں رہنما اصول تیار کریں گے۔ پاکستان ہر قسم کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ، ان میں سے ایک 0.6 ملین ہیکٹر مینگروو ایکو سسٹم زیادہ تر سندھ کے ساحلی زون میں ہے۔ تاہم اب تخمینے کے مطابق مینگرو ز مسلسل زوال کا شکار ہے کیونکہ جنگلات کی کٹائی ایک خطرناک شرح سے ہو رہی ہے۔ طاہر رشید کے مطابق ایک بار پاکستان میں مینگروو کی آٹھ قسمیں تھیں ، لیکن اب صرف چار اقسام باقی رہ گئی ہیں اور مختلف علاقوں میں تقسیم ہو گئیں ہیں۔ ان میں سے بیشتر ایویسینیا ہیں ، جو تقریبا 90 فیصد ہے پھر رائزوفورا 8 فی صد ، اور دیگر تقریبا 2 فی صد ہیں۔ اب یہ ایشیاء کا ساتواں سب سے بڑا مینگروو جنگل ہے اور دنیا کا بارہواں بڑا جنگل ہے۔ مینگروو میں کمی کے حوالے سے طاہر رشید نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ دریاؤں میں پانی کی کمی ہے کیونکہ دریائے سندھ میں کم پانی ہے اور اس کی روانی بہت آہستہ ہے جس کی وجہ سے ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ 1992 کے واٹر ریکارڈ کے مطابق کوٹری بیراج کے بعد دس ملین ایکڑ فٹ پانی دریائے سندھ میں چھوڑنا چاہئے۔ تاہم اب صرف 0.75 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔ طاہر رشید نے مزید کہا کہ دوسرا سب سے بڑا مسئلہ آلودگی ہے ، کیونکہ شہر کا آلودہ اور صاف نہ ہونے والا پانی سمندروں میں بہہ رہا ہے ، اور تیسری وجہ اس پر مقامی لوگوں کا انحصار ہے۔ کچھ مقامی لوگ چرانے اور جلانے کے مقاصد کے لئے مینگرو کا استعمال کرتے ہیں ، جس کے نتیجے میں اس میں بتدریج کمی واقع ہو ئی ہے۔ طاہر رشید نے بتایا کہ اس کے علاوہ شہری آبادی میں اضافہ اور نئی بستیوں کا قیام ایک اور بڑا مسئلہ ہوگا ۔جیسے ہی طاہر رشید نے متعارف کرایا ، ایک ہیکٹر میں مینگرووز 100 کلو مچھلی اور 150 کلوگرام کیکڑے پالنے میں مدد کرتا ہے۔ اسی طرح یہ مینگروز ایک ملین سے دس ملین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈجذب کرنے میں معاون ہیں۔ مینگروس میں عام جنگلات کے مقابلے میں کاربن جذب کرنے کی 4 گنا زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ ' مینگروز سونامی ، اور طوفان کو روکنے میں مدد کرتا ہے، اگر ہمارے پاس مینگروو نہیں ہے تو کراچی سونامی یا طوفان سے پورا تباہ ہوسکتا ہے۔ کوسٹ بیلٹ کراچی کے رہائشی کمال شاہ نے بتایا مینگروز ہماری حفاظت کرنے والے ہمارے خاموش فوجی ہیں۔ مینگروو کے تحفظ کے بارے میں طاہر رشید نے کہا ہمیں 1952 میں دیے گئے حدف کے مطابق پانی چھوڑنا چاہئے۔ دوسری بات یہ کہ بلوچستان کے دریاؤں کے کنارے بند کردیئے جائیں۔ یہاں تک کہ اگر نہریں پانی کے لئے کھول دی گئیں تو پھر بھی بلوچستان کے دریاؤں سے پانی کی باقاعدہ مقدار میں اجازت دی جانی چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی ڈیلٹا تک جا سکے اور مینگرووز کی نشوونما میں مدد مل سکے۔


