En

پاکستانی آم کی پہلی کھیپ آئندہ ہفتے چین پہنچے گی

By Staff Reporter | Gwadar Pro Jun 2, 2021

اسلام آباد: پاکستانی آم کی  پہلی کھیپ آئندہ  ہفتے چین پہنچے گی۔ گوادر پرو  کے مطابق جو گزشتہ  5 سال سے چین کو آم اور  کینو  برآمد کرنے والے  امپیریل وینچرز کے بانی عدنان حفیظ   نے کہا ہے کہ رواں  سال ہم چین کو آم کی برآمد 10 جون کو شروع کریں گے جو 11 جون کو  چین پہنچیں گے۔ رواں سال ہم آم پہلے  برآمد  کرنا چاہتے ہیں  تاکہ چین میں ہماری مناسب مارکیٹنگ  کر سکیں ۔   انہوں نے کہا  کووڈ 19 کی وجہ سے  جب آم یا کسی بھی قسم کی کھیپ چین کے کسٹم میں پہنچے گی ، تو وہ پہلے ہر چیز  کا کووڈ 19 ٹیسٹ کریں گے۔ اگر اس میں  کووڈ 19 مثبت  نکل آ یا  تو کھیپ تباہ ہوجائے گی، اس  نقصان سے بچنے  کیلئے ہمارے بیشتر خریداروں نے بکنگ روک دی۔  عدنان نے  بتایا کہ انہوں نے گذشتہ سال بی ٹو سی فروخت شروع کی تھی۔ وہ  وی چیٹ (WeChat)  یا دوسرے پلیٹ فارمز پر چھوٹے پیمانے  پر  انفرادی صارفین میں  آم فروخت کرنے کے لئے آن لائن پروموشنز کرتے ہیں۔ بہت سارے چینی صارفین پہلے ہی اپنے آم کی بکنگ  کر چکے ہیں۔  اس طرح سے صارفین کو کوئی نقصان اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔  پچھلے سال کی طرح  آم بھی وائی ٹی او ایکسپریس کے تعاون سے لاہور سے کنمنگ ائیرپورٹ پہنچایا جائے گا۔  ہم پاکستان سے آپ کی دہلیز تک 72 گھنٹے میں ترسیل   کرسکتے ہیں۔ عدنان کے مطابق لاہور سے کنمنگ تک نقل و حمل کی لاگت 7 سے 8   آر ایم بی فی کلوگرام ہے،اب ہمارے پاس بکنگ تقر  2 ٹن کی  ہے،ہمارے پاس ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔ اگر ہمیں زیادہ بکنگ مل جائے تو  نقل و حمل کی  لاگت  میں مزید کمی کی جاسکتی ہے۔   انہوں نے کہا  گزشتہ  سال شنگھائی  کے ایک  مال میں آم کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ لہذا  رواں  سال میں نے بیجنگ میں بھی یہی حکمت عملی استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ ہمیں  تشہیر  کیلئے کچھ سپر مارکیٹ مل جائے۔ ایونٹ کے بعد  ڈسپلے جاری رہ سکتا ہے تاکہ لوگ خریدنے اور ذائقہ  کے لئے آسکیں۔  عدنان کا خیال ہے کہ اس طرح سے وہ لوگوں سے بہتر تاثرات حاصل کرسکتے ہیں۔  ہم نے  واقعی کبھی بھی اپنے آم کی چینی عوام  میں  مارکیٹنگ نہیں  کی ۔ اگر آپ ان سے آم کے   انتخاب  بارے  پوچھیں  تو وہ کبھی بھی پاکستانی آم کے بارے میں نہیں سوچتے  ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنا آم کسی اور بہتر جگہ پر رکھنا چاہئے جہاں لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ پاکستان میں بھی آم ہے اور یہ دنیا  میں  آموں کے پانچ سب سے بڑے پروڈیوسروں میں سے ایک ہے۔ اس سال  عدنان نے چینی شراکت داروں کے ساتھ آن لائن فروخت میں کچھ نیا تعاون شروع کیا ہے۔  ہمارے نئے ساتھی پہلے کبھی پاکستانی آم فروخت نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے صرف کچھ چھوٹے پیمانے پر مارکیٹنگ کی۔ جب ہماری پہلی کھیپ   پہنچے گی تو   وہ سب کچھ چیک کریں گے اور اگلے مرحلے میں جارحانہ انداز میں مارکیٹنگ شروع کردیں گے۔ ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں ہمیں بہتر فروخت مل جائے گی۔ انہوں نے کہا پچھلے سال ہم نے آم کی برآمدات کافی دیر سے شروع کی ، اس سال ہم نے بہت جلد آغاز کیا ،اب ہم اس طرح کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں    کہ ہر دس دن کے لئے  ہم    آم کی ایک کھیپ چین  بھیجیں گے    لیکن دیکھتے ہیں کہ پہلی کھیپ  کے بعد مارکیٹ کا کیا ردعمل ہے۔

  • comments
  • give_like
  • collection
Edit
More Articles