مکئی سویا بین پٹی انٹرکراپنگ ٹیکنالوجی پاکستان میں 'سبز انقلاب' لا ئے گی، ماہرین
اسلام آباد:مکئی سویا بین پٹی انٹرکراپنگ ٹیکنالوجی پاکستان میں کم پانی والی زمین اور کم کھاد کے ذریعے مکئی اور سویا بین کی پیداوار میں سبز انقلا ب لائے گی۔ یہ بات پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) ، نیشنل ریسرچ ایگریکلچرل سنٹر (این اے آر سی) ، ایوب ایگریکلچرر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے اے آر آئی) اور پاکستان آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ (پی او ڈی بی) کے آئل سیڈ ماہرین نے بہاولپور میں نمائشی پلاٹوں کے دورے کے موقع پر کہی۔ چائنہ اکنامک نیٹ (سی ای این) کے مطابق سویا بین کی فصل کا جائزہ لینے کے بعد ماہرین نے کہا سویا بین کی فصل پر اتنا زیادہ پھل بہت متاثر کن ہے ،اس ٹیکنالوجی سے فصلوں کی پیداوار اور فصل کے کل رقبے میں اضافے کی بڑی صلاحیت ہے ، جو ہمارے کسانوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔سچوان زرعی یونیورسٹی (SAU) کے پروفیسر یانگ وینیو کی تیار کردہ مکئیـ پٹی انٹرکراپنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے رواں سیزن میں پاکستان میں 100 ایکڑ اراضی پرسویا بین کی فصل لگائی گئی ہے۔ ان تمام فصلوں کا قومی سطح پر اچھا انتظام کرنا آ سان نہیں اس لیے یہ ماہرین کیلئے حیران کن ہے اس کیلئے ایس اے یو میں پوسٹ ڈاکٹر جو پاکستان میں ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہے ہیں ، ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔ محمد علی رضا نے عتماد اور اظہار تشکرکرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے سیچوان زرعی یونیورسٹی میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی ہے ، اور میرے پروفیسر یانگ وینیو ، میری یونیورسٹی ، پاکستان میں چینی سفارت خانے کے زرعی کمشنر ڈاکٹر گو وین لینگ میری بہت مدد کر رہے ہیں۔ ماہرین کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا یہ ٹیکنالوجی پاکستان میں مستقبل میں سویابین کی تیاری کیلئے اہم ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ہم بہت ساری وجوہات کی وجہ سے سویابین نہیں اگا رہے ہیں ، جبکہ یہ ٹیکنالوجی ہمیں ایک وقت میں دو طرح کی فصلیں دیتی ہے اور خرچ ایک فصل جتنا ہے ۔ محمد علی رضا نے سی این کو بتایا ہمیں یقین ہے کہ ہماری ٹیکنالوجی پاکستان میں سویا بین کی پیداوار میں اضافہ کا واحد ممکنہ راستہ ہے ، ''محمد علی رضا نے کہا۔ "آپ کو معلوم ہے کہ گزشتہ روز سویابین کی قیمت میں 168 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اب پاکستان کی سویا بین کی پیداوار کو زندہ کرنے کا ایک اہم وقت ہے۔ چینی ٹیکنالوجی چین کی نسبت پاکستان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ محمد علی رضا نے کہا پاکستان میں ہمیں سورج کی روشنی زیادہ مل رہی ہے ، جو سویابین کی افزائش کے لئے اہم ہے۔ پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے خصوصی موقع پر یہ ٹیکنالوجی ہمارے ملک کے لئے ایک تحفہ ہے۔ پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر ہم سچوان زرعی یونیورسٹی کے پروفیسرز کے دلی مشکور ہیں۔ مزید برآں انہوں نے پاکستان میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور چین سے جڑی بوٹیوں تلف کرنے والی مشینری اور بیجوں کی درآمد کے لئے مل کر کام کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔نمائندوں میں پی اے آر سی کے پرنسپل سائنسدان اور نیشنل کوآرڈینیٹر (بائیوٹیکنالوجی) ڈاکٹر محمد عاصم ، این اے آر سی کے پرنسپل سائنسدان ڈاکٹر فیصل سہیل فتح ، آف تیلیاں ، ایوب ایگریکلچرریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے آر آئی) کے ڈائریکٹوریٹ آف آئل سیڈ میں سائنسدان حافظ سعد بن مصطفی ، ڈاکٹر اعجاز الحسن ڈائریکٹوریٹ آف آئل سیڈ اے اے آر آئی ، پاکستان آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ (پی او ڈی بی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد افتخار اور پاکستان آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے محمد اشرف شامل تھے۔


