نوجوان چینی کسٹم آفیسر نے پاکستان کو امدادی سامان کی پہلی کھیپ جاری کی
بیجنگ: چین کی نوجوان کسٹمز آفیسر ما یانہوئی نے پاکستان کو طبی امدادی سامان کی پہلی کھیپ جاری کی۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق ما یانہوئی جس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 2020 میں پاکستان کو طبی امدادی سامان کی پہلی کھیپ جاری کی نے کہا میں پامیر آئی یہاں میر ا شوہر کام کرتا تھا،میں اپنے پیار کی وجہ سے خنجراب کسٹمز ہاؤس میں رہتی ہوں۔ خنجراب کسٹمز ہاؤس اور خنجر پاس صوبہ سنکیانگ ایغور خودمختار خطے کے شہر کاشغر میں ہیں۔ کاشغر کی سطح سمند ر سے اوسط اونچائی 4 کلومیٹر سے زیادہ ہے ، اور سالانہ اوسط درجہ حرارت -2 ہے ، اور سب سے کم درجہ حرارت -40 تک جاتا ہے۔ خنجراب پاس 4733 میٹر کی بلندی پر ہے ، جو دنیا میں سب سے اونچی سرحدی گزر گاہ ہے۔ چین اور پاکستان کے مابین واحد زمینی راستہ ہونے کے ناطے خنجراب پاس نے COVIDـ19 وبائی امراض کے خلاف لڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔مارچ 2020 میں خنجراب پاس میں مڈ ونٹر تھا۔ خنجراب کسٹمز ہاؤس کی وینگارڈ ٹیم نے پاکستان کو طبی امداد کی پہلی کھیپ کی فراہمی کے لئے چھ گھنٹے کام کیا۔ ما ، وانگورڈ ٹیم کے ممبروں میں سے ایک ہے جسنے اسے یاد کرتے ہوئے کہا اس وقت درجہ حرارت -30تھا۔ اتنی تیز ٹھنڈی ہوا تھی کہ ہمارے ہاتھ پاؤں یخ ٹھنڈے ہو گئے۔ تاہم ہم میں سے کسی نے بھی اپنی جگہ نہیں چھوڑ ی تھی ۔ وانگورڈ ٹیم کی ٹھوس کوششوں سے پاکستان کو دی جانے والی مادی امداد کامیابی کے ساتھ جاری کردی گئی۔ صرف کام ختم ہونے کے بعد میں اور میرے ساتھیوں نے اپنے ہاتھ پا ئوں صاف کیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم نے اس طرح کاعارضی کام چار بار انجام د یا ہے ۔ما جو سن 2014 میں گریجویشن کے بعد سے خنجراب کسٹم ہاؤس میں کام کرر ہی نے بتایا کہ وہ میرے ساتھی میرے بازو ہیں اور انہوں نے میرے لئے ایک اچھی مثال قائم کی۔ مجھے خنجراب کسٹم ہاؤس میں کام کرنے کے قابل ہونے پر بہت فخر ہے۔


